کرالہ پورہ بڈگام میں حاملہ خاتون نے زہریلی شئے نوش کرکے زندگی کا خاتمہ کیا

لواحقین کا احتجاج ، سسرال والوں پر خاتون کو قتل کرنے کا لگایا الزام ، تحقیقات کی مانگ

0 60

سرینگر/ صنف نازک کے خلاف بڑھتے تشدد آمیز واقعات کے بیچ وسطی ضلع بڈگام کے کرالہ پورہ علاقے میں گزشتہ روز ایک حاملہ خاتون نے زہریلی شئے نوش کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔ بدھ کے روز مہلوک خاتون کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کہا کہ ان کی بیٹی کو سسرال والوں نے قتل کیا ۔ خاتون کے لواحقین نے سرینگر چرار شریف شاہراہ پر دھرنا دیکر مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ملوثین کو سزا دی جائے۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر چرار شریف شاہراہ پر بدھ کی صبح اس وقت ٹریفک کی نقل و حمل مسدوود ہو کر رہ گئی جب کرالہ پورہ کے مقام پر لوگوں نے شاہراہ پر دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرے کئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ شام ایک حاملہ خاتون یاسمینہ اختردختر عبد الرحمان کمار نامی خاتون نے زہریلی شئے نوش کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔ خاتون کی ہلاکت کے خلاف ان کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یاسیمہ اختر نے خود کشی نہیں کی بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یاسمینہ کو اْس کے میکے والوں نے جان سے مار ڈالا۔”یاسمینہ کے رشتہ داروں کے مطابق وہ چار ماہ سے حاملہ تھی۔انہوں نے کہا کہ یاسمنہ چرار شریف میں اپنے شوہر کے گھر میں 13اور14مئی کی درمیانی رات کے دوران مرگئی اور جب اْسے ایس ایم ایچ ایس پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے اْسے مردہ قرار دیا۔مظاہرے میں شامل دوسری خاتون نے کہا کہ یاسمینہ کی موت سے متعلق اْس کے سسرال والے بشمول اْس کا شوہر مختلف کہانیاں بتارہے ہیں۔انہوں نے الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ یاسمینہ کو گذشتہ برس اْن کی شادی کے بعد سے مسلسل ہراساں کیا جارہا تھا ۔ احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائے اور ملوثین کے خلاف کڑی سے کڑی قانونی کارورائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمیں انصاف فراہم ہو سکے ۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...