ڈکسم وائلڈ لائف سنچری کا نام ونشان مٹنے کے قریب،بھیڑ بکریوں اوردوسرے مویشیوں کو گھاس کھلانے کیلئے سنیچری میں کھلے عام چھوڑ دی گئی

0 65

سرینگر: ڈکسم وائلڈ لائف سنچری کونیست ونابود کرنے کی کوشش عروج پر پہنچ گئی ہے ،صوبہ جموںسے گجر بکروال طبقے کے ٹولے اپنے مویشیوں کو ادھمپور،ڈوڈہ ،ریاسی،راجوری علاقوں سے آنے والے گجر بکروال اپنے مویشیوں کے ہمراہ وائلڈ لائف سنچری میں گھاس چرانے کیلئے کھلے چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق ڈکسم میں وائلڈ لائف محکمہ کی سنچری کو نیست ونابود کرنے کی کاروائی عروج پر پہنچ گئی ہے ۔صوبہ جموںکے مختلف علاقوں سے آنے والے گجر بکروال اپنے سینکڑوںبھیڑ بکریوں اوردوسرے مویشیوں کو گھاس چرانے کیلئے سنچریوں میں کھلے عام چھوڑ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے آرٹیکل51سال1972کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔وائلد لائف سنچری میں سرکار نے میویشیوں کے داخلے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی ہے اور اس سنچری کو صرف جنگلی جانوروں کیلئے محفوظ تصور کیا جارہا ہے تاہم ڈکسم سنچری میں بھیڑ بکریوں کو گھاس چرانے اور انسانی آمدورفت کی وجہ سے جنگلی جانور رہائشی علاقوں کی طرف اپنی پیٹ کی آگ بجھانے کے سلسلے میں پہنچ جاتے ہیں اور اس دوران نہ صرف جنگلی جانور لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ ان کے مال مویشیوں کو بھی نوالہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔نمائندے کے مطابق ڈکسم میںکمپارٹمنٹ نمبر21سے لیکر26کمپارٹمنٹ تک وائلڈ لائف سنچری کا علاقہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی دیکھ ریکھ کیلئے ملازمین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔تاہم مذکورہ اہلکار بھیڑ بکریاں پالنے والے گجربکروالوں سے گھاس چرانے کیلئے باضابطہ طور پر رشوت طلب کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس سنچری کا وجود ختم ہوتا جارہا ہے ۔

تبصرے
Loading...