ڈاکٹر شاہ فیصل کا فیصلہ غلط یا صحیح ۔۔۔۔کوئی بحث نہیں، اب کیا کریں؟ اس فیصلے کا انتظار

دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
بندے کو عطا کرتے ہیں چشمِ نگراں اور
احوال و مقامات پے موقوف ہے سب کچھ
ہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور

تحریر
ناظم نذیر

ریاست جموں کشمیر کے کشیدہ اور پُر تنائو حالات میں انسانی جانو ں کا زیاں ،ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی ہر درد دل رکھنے والے انسان کو جنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔انسانی دل رکھنے والے انسان کو ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کیا ہورہاہے ان کے کانوں میں مظلوموں کی آہیں ، چیخ پکار سنائی دیتی ہیں ۔ان کے آنکھوں کے سامنے وہ تصویررقص کرتی ہیں جو اپنے والدین کے لخت جگر اور سماج کے معمار ہوتے ہیں ان کی لاشوں پر وہ لوگ ماتم کناں ہوتے ہیں جو ان کو قومی اثاثہ تصور کرکے ان کی جدائی پر جگر کے آنسوں بہا دیتے ہیں جبکہ مادیت پرست اور اقتدار کے نشے میںچور لوگوں کے کانوں تک جوں بھی نہیں رینگتی ہے وہ دیکھ کر اندھے ،سن کر بہرے ہونے کا ناٹک کررہے ہیںاور اپنے آرام دہ زندگی میں خلل پڑنے نہیں دیتے ہیں۔لیکن یہ ان کی بھول ہے کہ وہ دائمی آسائش و آرام پر ہی قابض رہیں گے ۔تاریخ کی کتابوں کی ورق گر دانی سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہیت پربراجماں بادشاہوں کے کرتوتوں سے جب ان کے تخت پلٹ گئے تو اس وقت ان کا کوئی معاون و مددگار نہیں رہا ہے ۔بلکہ اپنے بھی ان سے خفا ہوئے یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی ہے بلکہ جب یہ ظلم پر گرتی ہے تو اس کو زمین بوس ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔چونکہ ڈاکٹر شاہ فیصل کوئی عام شخص نہیں بلکہ اُس نے اپنی لیاقت اور ذہانت کا سکہ پورے بر صغیرپرجما دیا ۔مسابقتی امتحان پاس کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن اس میں بھی کوئی امید وار پہلی پوزیشن حاصل کرے تو وہ کتنا بالغ النظر اور علمی بصیرت کا مالک ہوگا ۔مقدر کا کھیل تو صیح ہے لیکن تقدیر اس کا ساتھ دیتا ہے جس میں صلاحیتیں پیوست ہوتی ہیں ۔IAS کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرنے کے بعد شاہ فیصل اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔کم عمر ہونے کے باوجود اپنے عہدوں بشمول ناظم تعلیمات کا عہدہ سنبھالا ۔تو انقلاب بپا کیاہے۔پہلے معالج تھے اور مریضوں کی مرض کی تشخیص کرتے تھے لیکن انتظامیہ میں آنے کے بعد مختلف شعبوں میں لگی بیماروں کا علاج کرنے میں مصروف ہوئے اور اور ہالنگ کیلئے منصوبے ترتیب دینے میںاپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کلیدی رول اداکیالیکن بیروکریٹوں اور سیاسی مکاروں کو ان کی راس نہیں آئی یہ فطرت کا ہی تقاضا ہے۔شاہ فیصل کا اندر کا انسان جب جاگ اٹھا تو وہ معصوم بچیوں کی وصمت دریوں پر نالاں و پریشان ہوئے، وہ نہتے نوجوانوں کے قتل عام سے دلبرداشت ہوئے ،وہ بد نظمی اور بد دیانتی کو دیکھ کر افسردہ ہوئے اور کافی دیر تک دل پر بھاری پتھر رکھکر سرکار کی لٹکتی ہوئی تلوار جو نیام سے باہر آئی تھی کوخاموش انداز میں روکتا رہا ۔لیکن اب جب انسانوں کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کرنے سے دل تڑپنے لگا تو بیروکریسی اور اعلی ترین نوکری کو خیر باد کہنے میں کوئی دیر نہیں کی اور یہ کوئی آسان قدم نہیں ہے بلکہ یہ دنیائے انسانیت کیلئے ایک سبق آموز ہے ۔ڈاکٹر شاہ فیصل کے استعفیٰ کے بعد اگر چہ نیشنل کانفرنس میں شامل ہونے کا افواہیں گشت کر رہی تھیںلیکن ڈاکٹر صاحب کی پُرہجوم پریس کانفرنس میں واضح ہوا ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں۔حریت کانفرنس آزادی کے موقف پر کار بند ہے۔شاہ فیصل نے ان ہی کی طرح انسانی حقوق پاما لیوں اور ظلم و استبداد کے خلاف اپنی خاموشی توڑ کر سر میدان آئے لیکن ان کے ساتھ آواز ملانے سے قاصر ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر وہ حریت میں شمولیت اختیار کرتے تو شاید اولین مرحلے میں ہی اُن کی زبان پر مہر ثبت کرتے ، جیل کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے اور دہشت گردیا الگا وادی‘‘ کی لیبل لگانے میں کوئی دیر نہیں کرتے ۔اب چونکہ شاہ فیصل اپنی بالغ النظری اور دور اندیشی کا مظاہر ہ کررہے ہیں اور اپنے مستقبل کا کھل کر اعلان بھی نہیں کرتے ہیں ۔وہ اس قوم کی حقیقی آواز سے آواز ملانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں ۔فی الحال ان کا موقف نیک نیتی پر مبنی ہے ۔آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا؟ آج مین اسٹریم جماعتیں شاہ فیصل کے فیصلے اور ان کے درد کو بانٹنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی کھوئی ہوئی ساخت کو بحال کرنے کے لئے مدعو کررہے ہیں ۔لیکن ماضی کا مشاہدہ ہے کہ اُن پارٹیوں کے سیاستدانوںنے اپنوں سے بھی وفا نہیں کیا تو غیروں میں کہاں دم ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی میںشمولیت اختیار کرنے پر شاہ فیصل کو مالا ئیںپہنایں گے لیکن پارٹیوں میں عرصہ دراز سے اپنی من مانی چلانے والے سیاستدان اس عقاب صفت نوجوان کوضائع کرنے اور اس کی اہمیت کو کم کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کریں گے ۔علامہ اقبال کا یہ شعر اس پر صادق آتا ہے
الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فذا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہین کا جہاں اور
لیکن یقین محکم ہے کہ شاہ فیصل کے ادارے پختہ ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مثبت طریقے کا ر اپنائیں گے ۔شاہ فیصل اور اُن کی سرگرمیاں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مختلف تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔اُن پر غور کریں تو کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکلے گی جو قوم و ملت کومنظور ہوگی اور ان کے مستقبل کے لئے کار آمد ثابت ہوجائے ۔یہ قوم سیاسی شعبدہ بازوںکی چالوں اور مکارانہ چالوں سے اب تنگ آچکی ہے۔یہ قوم اب ایک مسیحائی صفت کے قائد کی تلاش میں ہے ۔اب قوم کی نظریں شاہ فیصل جیسے ہونہار پر مرکوز ہورہی ہیں ۔خدا کرے موصوف کا فیصلہ اس قوم کی سلامتی اور امن کا پیغام لیکر آئے ۔یہ بات غور طلب ہے کہ یہاں اب بے شمار لیڈروں نے قوم کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کمی نہیں رکھی ہے۔اس قوم کے زخموں پر مرہم لگانے میںشاہ فیصل اپنا فیصلہ سُنائیں گے۔تو یہ قوم مظلوم اس کی احسان مند ہوگی ۔حریت لیڈروں کا نعرہ جو قوم نے بھی تسلیم کیا کے لئے جیل خانے ہیں۔ عسکریت پسندوں کا جان ہتھیلی پر رکھکر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے تک ہی ایک عبارت بنی ہے لیکن منزل کہاں ہے؟ کانٹے ہی کانٹے ہیں۔کوئی راستہ ایجاد کی جائے جو منزل کو پہنچانے تک آسان اور رسہل ثابت ہو۔شاہ فیصل ہر دلعزیز نوجواں ہیں اس میں کوئی دوہرائے نہیں ہے لیکن سیاست کا نعرہ دینے پر لوگوں کی ایک خاصی تعداد کی اظہار ناراضگی بھی سامنے آرہی ہے ۔ کشمیری قوم مجبوراً سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ورنہ مجمو عی طور ان کا مکار سیاستدانوں سے متنفرہیں ۔لہٰذا شاہ فیصل جب تک وہ سماجی کاموں میں جڑ کر لوگوں کے دل جیتنے کیلئے سرگرم عمل ہوجائے اور لوگوں کے دُکھ درد میں ان کے تئیںمسیحا ئی رول ادا کریں ۔کل کا بیروکریٹ جب مستقبل میں ایک عام زمیندار، ایک غریب شخص کے سامنے ہوگا تو وہ اس پر فد ا ہونے میں کوئی تاخیر نہیں کرے گا ۔ وہ ڈاکٹرشاہ فیصل کیلئے انمول تحفہ ہوگا۔درمندانہ اپیل ہے کہ بادل ِناخواستہ نہیں،Farmality پورا کرنے کے لئے نہیں، بلکہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ لوگ جڑنے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں اور جس بنیادی مسئلہ کی وجہ سے یہاں جنگ جیسا سماں ہے پر اپنا موقف مستحکم کریںاور اس کے لئے وہی روڑ میپ سامنے رکھیں جو حقیقت پر مبنی ہے اور اس کو Follow کرنے میں صرف طریقہ کا ر مختلف اپنائیں جس سے آپ کی شخصیت پر کوئی آنچ نہ آجائے اور کوئی خطرناک و کٹھن حالات سے نہ گذرنا پڑے تاہم پائیدار حل تلاش کرناہی وقت کی پکار ہے۔ ڈاکٹر شاہ فیصل اس قوم کا درخشان ستارہ ہیں اور اگر انہوں نے مغموم قوم کے درد کا مدوا کرنے میں رول نبھایا تو یہ قوم کیا بلکہ یہ سنہرے حروف سے لکھے جانے والے تاریخ کا ایک باب رقم ہوگا۔علامہ اقبال رقم طراز ہے
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پے جو ڈالتے ہیں کمند
تحریر
ناظم نذیر
9622434289

تبصرے
Loading...