پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں نے مچائی ہے لوٹ،علاج معالجہ کے فیس میں سو فیصد من مانی طور پر حیران کن اضافہ

0 29

سرینگر: پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرمریضوں کو دو دو ہاتھوں لوٹ رہے ہیں اور محکمہ ہیلتھ کی طرف سے مرتب کئے گئے قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔وادی کشمیر میں پرائیویٹ کلنکوں پر مریضوں کو علاج ومعالجہ کرنے والے ڈاکٹروں نے نہ صرف اپنی فیس میں 100%کا اضافہ کردیا ہے بلکہ فیس کی مدت صرف 15دنوں کیلئے مقرر کر رکھی ہے جسکے نتیجے میں غریب بیمار ایسے ڈاکٹروں کے پاس اپنا علاج ومعالجہ نہیں کرا سکتے ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کو اس بارے میں جو تفصیلات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق وادی کشمیر میں جتنے بھی بڑے ور چھوٹے ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلنکوں پر بیماروں کو دیکھتے ہیں انہوں نے 400سے 50روپے تک کی فیس 15دنوں کیلئے مقرر کی ہے اور مذکورہ ڈاکٹر بیمار کو ایک بار دیکھنے کے بعد 20دنوں کی ادویات لکھ کر دیتے ہیں اور ان بیماروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ بیس دنوں کے بعد دوبارہ آئیں ۔جب ڈاکٹر کے بتائے ہوئے اصول پر بیمار عمل کرتا ہے تو وہ یہ سن کر دنگ رہ جاتا ہے کہ جو فیس اس نے پہلے داخل کی تھی اس کی معیاد ختم ہوگئی ہے اور نئی فیس دینے کے بعد ہی ڈاکٹر اسے دوبارہ دیکھ سکتا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا کے باقی ملکوں میں صرف 7دنوں کے بعد ہی بیمار کو پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس نئی فیس داخل کرنی پڑتی ہے لیکن ان ملکوں میں صرف10%لوگ ہی پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس اپنا علاج ومعالجہ کراتے ہیں اور90%بیمار سرکاری اسپتالوں میں اپنا علاج ومعالجہ کراتے ہیں جبکہ ریاست جموں وکشمیر نہ صرف دنیا کی غریب ریاستوں میں بھی طبی لحاظ سے بہت پیچھے ہے اور اس ریاست میں جتنے بھی بڑے اسپتال موجود ہیں وہ صرف شہر سرینگر میں ہی ہیں اور ریاست کی 80%آبادی دیہات پر مشتمل ہے جہاں لوگوں کو طبی لحاظ سے وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جن کی اشد ضرورت ہے ۔ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی قابل ستائش نہیں ہے بلکہ غیر تسلی بخش ہے جس کے نتیجے میں 65%بیماروں کو پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے اور ان ڈاکٹروں نے اپنے اس کام کو خدمت خلق کے بجائے ایک تجارت کے طور متعارف کرایا ہے ۔اعداد وشمار کے مطابق اس وقت کشمیر میں سات سو سے زیادہ ایسے ڈاکٹر پائے جاتے ہیں جو اپنے پرائیویٹ کلنکوں پر بیماروں کو دیکھتے ہیں ،ان کلنکوں پر روزانہ 25ہزار بیماروں کا علاج کیا جاتا ہے جس میں تقریباََ آٹھ ہزار بیماروں کو مختلف ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں اور یہ ٹیسٹ ڈاکٹروں کی بتائی ہوئی جگہوں پر ہی کرانے پڑتے ہیں تاکہ وہاں سے بھی ان کو ایک موٹی رقم بطور کمیشن حاصل ہوسکے ۔تاہم ریاست میں قائم مخلوط سرکار بی جے پی پی ڈی پی کے وزیر صحت نے اپنا قلم دان سنبھالتے ہی ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر قدغن لگائی تھی مگر اس کے برعکس ڈاکٹروں نے اپنی پریکٹس جاری رکھی اور اس لحاظ سے قانون کی دھجیاں بھی اڑائی جارہی ہے ۔پرائیویٹ ڈاکٹروں کے اس طریقہ کار سے غریب اور مستحق افراد نہ صرف اپنا علاج ومعالجہ کرانے سے رہ جاتے ہیںبلکہ کئی جگہوں پر ایسے بیماروں کو اپنی زندگی سے ہاتھ بھی دھونا پڑتا ہے ۔

تبصرے
Loading...