پاکستان اور بھارت کے قریب لانے کیلئے کوششیں تیز کی گئی ہیں /امریکہ

پاکستانی وزیر خارجہ، امریکی مشیر سلامتی کا پلوامہ حملے کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

سرینگر : پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ایمبیسڈر جان بولٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں پلوامہ حملے کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ایمبیسڈر جان بولٹن کا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ٹیلی فونک گفتگو میں پلوامہ واقعے کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شاہ محمود کے ٹیلی فون کا مقصد جان بولٹن کو خطے میں حالیہ پیشرفت سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنا تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے 26 فروری کو کی جانے والی دراندازی ناصرف پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی تھی بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے بھی منافی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس جارحیت کے خلاف پاکستان کا 27 فروری کو دیا جانے والا جواب بیرونی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع میں تھا۔شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن کو بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، اس لیے وزیر اعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو واپس بھجوایا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود بھی مشاورت مکمل کرنے کے بعد ہندوستان واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ ہم 14 مارچ کو کرتارپور راہداری معاہدے پر گفت و شنید کے لیے سرکاری وفد بھارت بھجوا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر ہفتہ وار روابط جاری رکھنے کے لیے بھی تیار ہے۔اس موقع پر ایمبیسیڈر جان بولٹن نے کہا کہ وہ اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات میں مصروفیت کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورتحال کے سبب دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔انہوں نے خطے میں امن و امان کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔شاہ محمود قریشی نے بھارت میں حالیہ انتخابات کے باعث نئی دہلی کی طرف سے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے بھی آگاہ کیا، جس سے ایمبیسڈر جان بولٹن نے اتفاق کیا۔امریکی مشیر قومی سلامتی نے افغان امن عمل میں پاکستان کے موثر کردار کی تعریف کی۔دونوں رہنماؤں نے اس سلسلے میں مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تبصرے
Loading...