ویڈیو: 3سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کیخلاف پوری وادی میں غم و غصے کی لہر

پرتشدد احتجاجی مظاہروںکے دوران 47پولیس وفورسز اہلکاروں اور7عام شریوں سمیت 54 زخمی

0 118

سر ینگر /اے پی آ ئی:3سالہ لڑکی کی آ بروریزی کیخلاف وادی بھرمیں غم و غصے کی لہر تیسرے دن بھی جاری ،درجنوں علاقوںمیںپرتشدد احتجاجی مظاہرے ،اسسٹنٹ کمانڈنگ افسرسمیت 47 فورسز اور7عام شہری تصادم آ رائیوں میں زخمی ،شمالی کشمیرمیں اسکول کولیجوں میںدرس وتدریس کاکام متاثر ،کشمیر یونیورسٹی اسلامک سائینس اینڈ ٹیکالو جی یونیورسٹی میں زیرتعلیم طلابوں نے بھی کلاسوںکابائیکاٹ کرکے گنوانی واقعے کیخلاف احتجاج کیا ،آ برو ریزی کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال سے وادی میں زندگی درہم برہم ہوکررہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے ،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔اسکولوںکالجوں میںدرس وتدریس کاکام نہ ہوسکا ،سرکاری و پرایئویٹ دفتروں میں ملازمین کی حا ضری برائے نام رہی ۔گرمائی دارالخلافہ سرینگر میں امن بھرقرار رکھنے ،لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے انتظامیہ نے جگہ جگہ پرپولیس وفرسز کی تعیناتی عمل میںلاکرحفاظتی اقدامات انتہائی سخت کر دیئے تھے ،بانہال بارہمولہ ریل اور انٹر نیٹ سہولیات معطل رہی ۔اے پی آ ئی کے مطابق سمبل بانڈی پورہ کے علاقے میں پیش آ ئے آ برو ریزی واقعے کے خلاف وادی بھرمیں غمو و غصے کی لہرتیسرے دن بھی جاری رہی اور درجنون علاقوںمیںلوگوں نے 3سالہ لڑکی کے سا تھ پیش آئے واقعے کے خلاف اپنے شدیدغم و غصے کااظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے۔چنا بل سمبل ،ہار ترٹھ ،سنگھ پورہ ،جھیل برج ،کرپال پورہ پائین ،ہانجی ویرہ ،ہائی گام ،چھورہ ،دلنہ، قمرواری ،بمنہ ،بڈگام کے علاوہ گاندربل ،لال بازار ،حول،علمگری بازار ،صورہ ،بژہ پورہ علاقوں میں بڑی تعداد میں مرد وزن بوڑھے اور بچے اپنے گھروں سے باہر آ ئے اوراس گنوانی حرکت کیخلاف اپنے غم و غصے کااظہا رکیا ۔چنہ بل ،سنگھ پورہ ،کرپال پورہ ،ہانجی ویرہ ،دلنہ ،چھورہ کے علاقوں میں پولیس وفورسز اور احتجاج کرنے والوںکے درمیان جھڑپوں کاسلسلہ اس وقت شروع ہوا جب واقعے کیخلاف احتجاج کرنے والوں کوپولیس نے آ گے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جس پراحتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور انہوںنے پولیس وفورسز پرخشت باری شروع کر دی فریقین کے درمیان تصادم آرائیوں کاسلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جھڑپوں میں ایس ایس بی سیکنڈ بٹا لین کے اسسٹنٹ کمانڈنگ آفسر سمیت 47پولیس وفورسز اہلکار اور 7عام شہری زخمی ہوئے جنہیں علاج کیلئے سرکاری اسپتال منتقل کیاگیا ،ارشداحمدڈار نامی نوجوان ٹائرگیس شل لگنے کے باعث شدیدطور پرزخمی ہوا اوراس سے نازک حالت میںصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ پہنچا دیا گیا جہاں وہ موت و حیا ت کی کشمکش میں مبتلاہے ۔کشمیر یونیورسٹی ،اسلامک سائینس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی ،ڈگری کالیج ہندوارہ ،ڈگری کالیج بانڈی پورہ ،گرلزہائرسیکنڈری بانڈی پورہ میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات نے کلاسوںکابائیکاٹ کر کے عصمت دری کے اس واقعے کے خلاف سڑکوں پر آ کراحتجاجی مظاہرے کئے اور مطالبہ کیاکہ ملوث شخص کوسرعام پھانسی پرلٹکایاجائے ،امن امان کوبھرقراررکھنے ،لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے صو بائی انتظامیہ نے جگہ جگہ پر پولیس وفورسز کی تعیناتی عمل میںلاکر حفاظتی اقدامات سخت کردیئے تھے ،بارہمولہ بانہال ریل سروس اور انٹر نیٹ سروس کوبھی وادی میںمعطل کردیاگیا ۔صوبائی انتظامیہ کے ایک سینئرافسرنے وادی بھرمیں احتجاجی مظاہروں کی تصد یق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس وفورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں میںاسسٹنٹ کماندنگ افسر 47پولیس وفورسز 7عام شہریوں سمیت 54افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کیلئے اسپتال منتقل کیاگیا ہے ۔صوبائی انتظامیہ کے مطابق چنہ بل سمبل میںاحتجاجی مظاہروں کے دوران ایک نوجوان ارشاد احمدڈار اشک آور گیس گولہ لگنے سے زخمی ہو اہے اور مذکورہ نوجوان کوعلاج کیلئے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا ہے تاہم اس کی حالت خطرے سئے باہربتائی جارہی ہے ۔انتظامیہ کے مطابق پوری وادی میںحالات قا بو میں ہے اور کسی کوبھی امن میںرخنہ دالنے املاک کونقصان پہنچانے کی اجاز ت نہیں دی جائیگی ۔

تبصرے
Loading...