ویڈیو: ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی سے اننت ناگ میں بطن میں پل رہے بچے سمیت خاتون کی موت

لواحقین کا ڈاکٹروں اور متعلقہ عملہ پر لاپرواہی کا الزام،خاتون کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی /میڈیکل سپر انٹنڈنٹ

0 28

 

سرینگر: اننت ناگ میں حاملہ خاتون کو بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے خاتون بطن میں پل رہے بچے سمیت موت کی آغوش میں چلی گئی ۔ واقع ہوئی جسکے خلاف خاتون کے رشتہ داروں نے ڈاکٹروں اور ہسپتال عملہ کے خلاف احتجاج کیا ، جبکہ ہسپتال کی توڑ پھوڑ کرکے ہسپتال عملہ کے ساتھ ہاتھ اپائی کی ۔اس واقع کے حوالیسے سے حکام نے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو خاتون کی موت کے کی وجوہات اور عملہ کی مبینہ غفلت شعاری کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں شیر باغ میں واقع ہسپتال میں ایک حاملہ خاتون بطن میں پل رہے بچے سمیت ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت شعاری کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔اس ضمن میں حکام نے بدھ کو جنوبی کشمیر میں اننت ناگ کے زنانہ اسپتال واقع شیر باغ میں ایک حاملہ خاتون کی مبینہ طور طبی غفلت کے نتیجے میں ہوئی موت کی تحقیقات کے احکامات صادر کرلئے۔ذرائع کے مطابق 24 سالہ شوبی جان اہلیہ محمد حسین بٹ ساکنہ سرنل اننت ناگ گذشتہ روز مبینہ طورطبی غفلت کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئی۔مرحومہ کے قریبی رشتہ داروں کے مطابق گذشتہ روز صبح سویرے اسپتال میں داخل کرنے کے بعد شوبی کی سرجری دن کے دو بجے طے تھی تاہم وقت پر کوئی بھی ڈاکٹر میسر نہ ہونے اور ایک طویل وقت تک کوئی مناسب طبی امداد نہ ملنے کے سبب اْس کی موت واقع ہوگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ دن میں ہی شوبی کی حالت خراب ہوگئی اور اس سلسلے میں جب ڈاکٹروں کو مطلع کیا گیا تو اْنہوں نے رات کے گیارہ بجے تک اْنہیں منتظر رکھا۔اس کے بعد شوبی کو لیبر روم میں لیجایا گیا جہاں اْسے بقول اْنکے گھنٹوں منتظر رکھا گیا اورکوئی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔اسکے بعد انتہائی خراب حالت میں شوبی کو رات کے تین بجے آپریشن تھیٹر لیجایا گیا تو وہ بھی گھنٹوں تک نہیں کھلا۔ صبح چھ بجے آپریشن تھیٹر کا دروازہ صرف اْسی وقت کھولا گیا جب وہاں لوگ جمع ہوگئے۔اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر ایم وائی ذاگو کے مطابق اورڈائریکٹر ہیلتھ سروس کی ہدایت پر پرنسپل میڈیکل کالج اننت ناگ، سپر انڈنٹ ، سی ایم او پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی جو معاملے کے حوالے سے تمام حقائق جان کر رپورٹ درج کرے گی ۔ ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنی رپورٹ پیش کرے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون کے رشتہ داروں نے اس کی موت کیلئے ڈاکٹروں اور ہسپتال عملہ کوذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مبینہ غفلت شعاری میں ملوث ڈاکٹروں اور دیگر ملازمینی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے بھی اس سلسلے میں رپورٹ درج کرلی ہے اور مزید تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے ۔ ادھر زچہ بچہ ہسپتال اننت ناگ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کے مطابق ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ خاتون کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے اور جس وقت خاتون کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تو اُس وقت خاتون کی حالت ٹھیک تھی اور ہسپتال میں تمام عملہ بشمول ڈاکٹر ڈیوٹی پر حاضر تھے ۔ انہوںنے کہا کہ یہاں روزانہ سینکڑوں خواتین کا آپریشن کیا جاتا ہے اور زچہ بچہ دونوں کو بچانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے جو کہ ہر ایک ڈاکٹر کا فرض ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موت اور زندگی قدرت کی دین ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو رکھ کر ہسپتال کی جائیداد کو نقصان نہ پہنچائیں کیوں کہ یہ عوام کی خدمت کیلئے ہے ۔ انہوں نے سرکار سے بھی اپیل کی کہ زچہ بچہ ہسپتال اننت ناگ کیلئے معقول سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ آئیندہ ہسپتال جائیداد کو نقصان سے بچایا جاسکے ۔

تبصرے
Loading...