ویڈیو: پنگلش ترال جھڑپ میں مقامی جیش کمانڈر اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ، رہائشی مکان کو نقصان

2

برستی بارش اور ہڑتال کے بیچ کئی نمازجنازوں کی ادائیگی کے بعد مقامی جنگجو سپرد خاک ، تجہیز و تکفین میں لوگوں کی باری شرکت

سرینگر/11مارچ/: پنگلش ترال خونین معرکہ آرائی میں مقامی جیش کمانڈر اپنے غیر ملکی ساتھی سمیت جاں بحق ہو گیا ہے جبکہ ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچ گیا ۔ پولیس نے جھڑپ میں مقامی جیش کمانڈر اور اس کے ساتھی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی جیش کمانڈر لیتہ پورہ فدائین حملے کا ماسٹر مائنڈ کے بطور تصویر کیا جاتا تھا ۔ ادھر برستی بارش اور مکمل ہڑتال کے بیچ مقامی جیش کمانڈر کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ تجہیز و تکفین میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنگلش ترال میں دو جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کے 44آر آر ،، 180 بٹالین سی آر پی ایف اور ایس او جی اونتی پورہ نے اتوار کے بعد دوپہر علاقے کو محاصرے میں لیااور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ تلاشی آپریشن کے دوران فورسز نے علاقے کا محاصرہ وسیع کیا اور گھر گھر تلاشی عمل شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور فوج نے مکان کے ملبے سے 2جنگجو ئوں کی نعشیں بر آمد کی گئی ۔ شام دیر گئے دونوں جنگجو ئو ں کی نعشیں پولیس نے اپنی تحویل میں لی جبکہ سوموار کی صبح پولیس نے دونوں مہلوک جنگجوئوں کی شناخت کی جس میں ایک مدثر احمد خان عرف محمود بھائی ساکنہ مڈورہ ترال کے بطور ہوئی جبکہ دوسرا غیر ملکی تھا ۔ جھڑپ میں ایک رہائشی مکان بھی زمین بود ہو گیا ہے ۔ سوموار کی صبح پولیس نے جھڑپ میں دو جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ضروری لوازمات کے بعد مدثر کی نعش لواحقین کو آخری رسومات کیلئے سونپ دی گئی ۔ پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے اتوار کے بعد دوپہر پنگلش ترالمیں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود جنگجوئوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو جنگجوئوں ہلاک ہوئے ۔جن میں سے ایک مقامی تھا جبکہ دوسرے کی شناخت غیر ملکی کے بطور ہوئی ۔ پولیس ترجمان کے مطابق دونوں جنگجوپولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے۔جبکہ مقامی جیش جنگجو لیتہ پورہ فداٗئن حملے کا ماسٹر مائنڈ تصور کیا جاتا تھا ۔ جھڑپ کی جگہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ عوام الناس سے ایک بار پھر التماس ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے۔اسی دوران جھڑپ میں مقامی جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی ترال کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔اسی دوران برستی بارش کے بیچ ایک کے بعد ایک نماز جنازوں کی ادائیگی اور مکمل ہڑتال کے بیچ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے مقامی جیش کمانڈر کو اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ اپنے آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیااور نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔معلوم ہوا ہے کہ جونہی تمام مہلوک جنگجو کی نعش جونہی آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ ردن بھر جاری رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران مہلوک جنگجو کے آبائی علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس دوران نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے بیچ ترال اور اس کے آس پاس درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجو کے آبائی علاقے کا رخ کیا جس دوران انہوں نے جاں بحق جنگجو کے نماز جنازے ادا کئے گئے جس کے بعد انہیں آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کے یاد میں جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ۔(سی این آئی )

تبصرے
Loading...