ویڈیو: نریندر مودی ہٹلر کی طرح حکومت چلارہے ہیں ، موجودہ انتخابات سچ اور جھوٹ کی لڑائی / ڈاکٹر فاروق

لیتہ پورہ حملہ کی تحقیقات کے حوالے سے وزیر اعظم نے ایک بھی بول نہیں بولا

0 127

سرینگر: ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی پر الزامات کے تیروں پر تیر چلاتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم ہٹلر کا دوسرا روپ ہے ‘‘اپنے منفرد انداز میںخانیار سرینگر میں اپنے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے شرکاء جلوس کا خوب منورنجن کیا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے شہر خاص کے خانیار علاقے میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر دامودر مودی پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ جب سے مرکزی میں مودی کی سرکار آئی تب سے ملک میں اقلیتی طبقوں کے خلاف نفر ت بڑھ گئی ہے اور ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بناکر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی من مانیاں کرتے رہتے ہیں اور وہ ہٹلر کی طرف ڈکٹیٹر بن گئے ہیں جو کسی کی نہیں سنتا تھا جب تک نہ اٹلی تباہ ہوگیااور یہی صورتحال یہاں پر بھی ہے ۔ شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے منفرد انداز میں ڈائلاگ پے ڈئلاگ مار کر لوگوں کو خوب ہنسایا اور ان کا خوب منورنجن کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو بلاوجہ ظلم و زیادتیوں کا شکار بنانے والوں کا یوم حساب آچکا ہے ۔ سی این آئی سٹی رپورٹر کے مطابق ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے نیشنل کانفرنس کے اْمیدوار، فاروق عبد اللہ نے سنیچر کو وزیر اعظم نریندرمودی کو جرمن ڈکٹیٹر اڈالف ہٹلر کے ساتھ مشابہت کی۔سرینگر کے خانیار علاقے میں ایک چناوی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فاروق نے کہا کہ ہٹلر بھی وہی باتیں کرتا تھا جو آج مودی کررہا ہے۔انہوں نے کہا”مودی آج ‘سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘بولتا ہے، ہٹلر بھی جرمنی میں ایسی ہی باتیں کرتا تھا۔انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے میں چالیس سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوگئے لیکن مودی نے اس کی تحقیقات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔فاروق نے کہا”وہ تو صرف بالاکوٹ،بالاکوٹ کہتا پھر رہا ہے اور چالیس سی آر پی ایف اہلکاروںکی ہلاکت کی تحقیقات کا ذکر بھی نہیں کرتا ہے”۔انہوں نے یہ عزم دہرایا کہ دفعہ370کی حفاظت میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وادی کشمیر سے بھاجپا کو دور رکھنے کیلئے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دینا ہی عقلمندی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امن و امان اور تیز تر ترقی کے ساتھ ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہوگی ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب جب نیشنل کانفرنس اقتدار سے دور رہی تب تب ریاست کی خصوصی پوزیشن کو تہس نہس کیا گیا۔ نئی دلی نے بخشی، صادق اور قاسم کے ذریعے جموں وکشمیر کی اندرونی خودمختاری کو روند ڈالا اور پھر باقی بچی کچھی کثر مرحوم مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی نے پوری کردی۔انہوں نے کہا کہ آج بھی آر ایس ایس اور بھاجپا کے کئی آلہ کار یہاں اُچھل کود کررہے ہیں۔ اسی لئے میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آنے والے انتخابات ریاست کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ہے اور عوام کو اپنے صحیح نمائندے چننے کیلئے جوق در جوق نکل کر حق رائے دہی کا استعمال کرناہوگا۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ کشمیری قوم نے جدوجہد کے ذریعے شخصی راج کی غلامی سے آزادی حاصل کی ہے۔ آر ایس ایس، بھاجپا اور ان کے آلہ کاروں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کشمیری قوم نے نہ کبھی غلام تسلیم کی اور نہ کبھی کسی کی غلام رہے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مودی سرکار ہر ایک محاذ پر ناکام ہوگئی ہے۔ نہ رام مندر بنا، نہ ہر سال 2کروڑ کو روزگار فراہم ہوا، نہ بینک کھاتوں میں 15لاکھ پیسے آئے، نہ کسانوں کو کچھ ملا بلکہ مہنگائی آسمان چھو گئی۔ پیٹرول، گیس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا لیکن مودی سرکار کچھ بھی کرنا سے قاصر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اب بالاکوٹ بالاکوٹ کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں تاکہ بنیادی معاملات سے عوام کی توجہ ہٹائی جائے۔ اجتماعات میں پارٹی کے سینئر لیڈران پیر آفاق احمد، مشتاق احمد گورو، سلمان علی ساگر ، حاجی شیخ معراج الدین ، حاجی غلام قادر آخون، محمد طیوب خان کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔

تبصرے
Loading...