ویڈیو: مفتی ناصر الاسلام کا مفتی اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد جامع مسجد بیروہ میں پہلا خطاب

30

مفتی ناصرالاسلام نے والد محترم مفتی اعظم مفتی بشیر الدین فاروقی ؒکی وفات کے بعد مفتی اعظم جموں وکشمیر کا منصب سنبھالا ۔مفتی اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد بھاری عوامی اجتماع سے مرکزی جامع مسجد شریف بیروہ میںپہلا خطا ب کیا ۔جس میںکشمیر کی موجودہ صورتحال ،ہمارے سماج میں بڑی تیزی سے پنپ رہی بے راہ روئیوںاور منشیات کے بڑھتے رجحان پر گہرے تشویش کا اظہارکیا اور اتحاد ملت پر زور دیا دینی اور سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے اور میر واعظ سمیت دوسرے قائدین کے ساتھ انتقام گیرانہ پالیسی کی مذمت کی ۔تفصیلات کے مطابق جامع مسجد بیروہ بڈگام میں نماز جمعہ کے موقعہ پر ایک اجتماع منعقد کیا گیا۔ اجتماع کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔نعت بحضور سرور کائنات پیش کر نے کی سعادت مولوی محمد شفیع پیرزادہ کو حاصل ہوئی ۔ خطیب جامع ومیر واعظ عبدالطیف بانڈے نے علمائے کرام،دانشوران عظام بشمول بشیر احمد کنٹھ ،مولانا محمد یاسین ، فاروق رنزو شاہ کے تعاون سے مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام کی دستاربندی کی ۔اس موقعہ پرمولوی عبدالطیف نے مفتی اعظم کے والد محترم اور ان کے اسلاف کے تاریخی پس منظر کو مختصر پیش کیا اور ان کی علمی وسماجی خدمات کی سراہنا کی ۔انہوں نے مفتی اعظم مفتی ناصرلا سلام کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔ ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام نے کہا کہ آدم کی تخلیق کے بعد سب سے پہلے حضرت آدمؑ کو علم عطا کیا گیا کیونکہ علم ہی وہ شئے ہے جس سے انسان دنیا کے اسرار ورموز سے واقف ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فرمانبرداری یا نافرمانی کے حوالے سے انسان خود مختار ہے اور اس کو راستہ اختیار کرنے کا پورا پورا حق ہے لیکن فرمانبرادی اور نافرمانی کے جزا و سز ا سے متعلق آگاہ کیاگیا ہے ۔انہوں نے قرآن کی روشنی میں علم وحکمت اور توحیدکے حوالے سے حضرت ابراھیم ؑ اور ان کے فرمانبردار فرزند حضرت اسماعیل ؑ کی دلیل پیش کی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد ؐاس سماج میں مبعوث کئے گئے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جارہا تھا ۔جب غریبوں اور مظلوموں کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کیا جارہا تھا تب رحمت اللعالمین نے معاشرہ کو سدھارنے میں لامثال رول ادا کیا اور ایسے پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کی جو روز قیامت تک انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔انہوں نے والدین ،علماء کرام اور سماج کے دانشوروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قوم کی نئی نسل کو بے حیائی ،منشیات ،برائیوں اور بداخلاقی سے بچانے میں کلیدی رول ادا کریں اور اپنے بچوں وبچیوں کو ہرحال میں جوابدہ بنائیں ۔ انہوں نے اتحاد ملت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلکی اختلافات سے دور رہ کرمتحدہ طور دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسلکی بنیادوں پر ملت کا شیرازہ بکھیرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی ۔انہوں نے معاشرتی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب لوگ مخاصمت اور انتشار میں پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانو ! اللہ کی وحدانیت پر مکمل اعتماد رکھو،غیراللہ کی طرف جانے سے اجتناب کرو اور کہا کہ ہم رسول ؐ کے داغدار ہیں اور ہر حال ہمیں عشق رسول کا دامن تھام لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ دارلقضاء و الفتویٰ کی تفصیل کے مطابق طلاق کی شرح میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے اور بے حیائی کی حد یہ ہے کہ ایک کیس کے مطابق 14برس کی لڑکی حاملہ پائی گئی۔لہٰذا عوام الناس اخلاقیات کی طرف خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔تاکہ اس طرح کی بے راہ روئیاں پیش نہ آجائیں ۔انہوں نے کاہچرائی اورسٹیٹ لینڈ پر مساجد تعمیر کرنے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے اس طرح کے اقدام اٹھائے ہیںتو وہ باز آجائیں ۔انہوں نے ریاست جموں وکشمیر کے موجودہ صورتحال سے متعلق بتایا کہ مسئلہ کشمیرگذشتہ 70برسوں سے لٹکا ہوا ہے اور اس کے حل میں تاخیر ہی بدامنی کا موجب ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری امن پسند قوم ہیں لیکن ظلم وتشدد ڈھاکر ان کو بندوق کی طرف دھکیل دیا گیا ۔انہوں نے بھارت کے حکمرانوں اور دیگر متعلقین پرزور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ امن قائم ہوسکے اور خون کی ارزانی کا خاتمہ ہوسکے ۔انہوں نے قائدین اورکارکناں پر NIAچھاپہ کاروائیوں اور طلبی کو انتقام گیرانہ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حربوں سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔انہوں نے جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے اور دیگر مذہبی قائدین کو گرفتار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائیاں بلاجواز ہیں ۔عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے اور بندوق کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔انہوں نے ہندوستان وپاکستان کے حکمرانوں پر زور دیاکہ وہ کشمیریوں کو ساتھ لیکر بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے میں رول ادا کریں تاکہ آئے روز کی یہ خون کی ارزانی بند ہوجائے گی ۔نامہ نگاروں کے سول کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے واضح کیا کہ وہ جنگ نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے جملہ مسائل بشمول مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں اور وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو اس پیشکش کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔انہوں نے جماعت اسلامی پر پابند ی کو بلاجواز قرار دیا اور میر واعظ سمیت دیگر قائدین پر NIAکی پکڑ دھکڑ کو انتقام گیرانہ پالیسی قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ این آئی اے کے بجائے پاکستان اور کشمیریوں سے بات کیلئے ماحول بنایاجائے تاکہ امن قائم ہوجائے ۔انہوں نے سیوزر لینڈ میں مسجد پاک میں مسلمانوں پر قاتلانہ حملہ اور قتل گارت گری کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس کی تحقیقات کی جائے

تبصرے
Loading...