ویڈیو: مشترکہ مزا حمتی قیادت کی کال، جامع مسجد سرینگر کے ممبر و محراب خاموش ،میرواعظ نظر بند

0 40

 

سرینگر/22مارچ: مشترکہ مزا حمتی قیادت کی جانب سے جماعت اسلامی جموں کشمیر پر پابندی عاید کر نے کے خلاف نماز جمعہ کے موقعہ پردی گئی احتجاجی کال کے پیش نظر پائین شہر اور اننت ناگ میں بندشوں کی وجہ سے جامع مسجد سرینگر کے ممبر و محراب خاموش رہے۔ سی این ایس کے مطا بق مشترکہ مزاحمتی قیادت نے رضوان اسد پنڈت کی حراستی کیخلاف جمعتہ المبارک کو کشمیر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد، آستانوں، خانقاہوں،اور امام باڑوں میں اس قتل ناحق،سرکاری سطح پر خوف و دہشت کا ماحول برپا کرنے،ایس اؤ جی اور این آ ئی اے کی جانب سے مزاحمتی قائدین، کارکنوں اور معزز شہریوں اور نوجوانوں کیخلاف خوفناک مہم جوئی کیخلاف بھر پورصدائے احتجاج بلندکرنے کی اپیل کی تھی۔ کال کے دوران امکانی احتجاج کے پیش نظر شہر خاص کے خانیار، رعنا واری، مہاراج گنج، نوہٹہ، صفا کدل اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی گئی تھیں۔ نوہٹہ کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر ایک بار پھر اذان نہیں گونجی جبکہ انتظامیہ نے اس مسجد پر سخت پہرے لگا کر نمازیوں کو نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔جامع کے تمام دروازوں کو مقفل کیا گیا تھا اور اس کے گرد وپیش بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کی نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ کوئی بھی شخص جامع میں داخل نہ ہوسکے۔ مسجد کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور سیل کردئے گئے تھے اور وہاں کی طرف جانے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔ایک اعلیٰ پولیس افسرنے بندشوں اوراضافی سیکورٹی اقدامات کادفاع کرتے ہوئے بتایاکہ نمازجمعہ کے موقعہ پرجامع مسجدکے احاطہ اورنواحی علاقوں میں پْرتشددمظاہروں کااندیشہ لاحق رہتاہے ،اسلئے احتیاطی اقدامات روبہ عمل لاناناگزیربن جاتاہے۔ ادھرسیول لائنز میں کسی بھی طرح کی احتجاجی ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ اس دوران حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیاہے۔

تبصرے
Loading...