ویڈیو: محض 48گھنٹوں بعد جنوبی ضلع شوپیان کے ہندستی پورہ گائوں میں ایک او ر معرکہ آرائی ، دو مقامی حزب جنگجو جاں بحق

پُر تشدد احتجاجی مظاہروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ دونوں جنگجو ئوں آبائی علاقے میں سپرد خاک ، تجہیز و تکفین میں ہزاروں کی شرکت

0 145

 

سرینگر: محض 48گھنٹوں کے بعد جنوبی ضلع شوپیان کے ہند ستی پورہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین اعلیٰ الصبح خونین معرکہ آرائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔ جھڑپ میںدو مقامی جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی شوپیان اور کولگام میں مکمل ہڑتال ہوئی جبکہ ضلع انتظامیہ نے دونوں میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی ۔ اسی دوران ضلع کولگام میں مکمل ہڑتال اور پُر تشدد جھڑپوں کے بیچ دونوں مقامی جنگجوئوں کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ نماز جنازوں میں لوگوں کا سمندر اُمڈ آیا ۔ ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہند ستی پورہ شوپیان میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد اتوار کی اعلیٰ صبح فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی شوپیان نے سحری سے قبل علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جونہی فورسز نے علاقے میں تلاشی کارورائی شروع کی تو وہاں موجود جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی مورچہ زن ہو کر جوابی کارروائی کی اور طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع کے مطابق سحری کے وقت علاقے میں گولیاں کی گن گرج سے لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے جبکہ ابتدائی فائرنگ میں ایک جنگجو کے جاں بحق ہونے کے بعد اس کے ساتھی نے نزدیکی ماکان میں پنا ہ لی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان قریب ایک گھنٹے تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا اور جونہی علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا تو جھڑپ کے مقام سے دو جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کی گئی جن کی شناخت عادل احمد وانی ساکنہ واری پورہ ڈی ایچ پورہ اور جاوید احمد بٹ ساکنہ ریڈونی کولگام کے بطور ہوئی ۔دونوں جنگجوئوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق عسکری تنظیم لشکر طیبہ سے تھا اور ان کے قبضے سے اسلحہ و گولی باردور بھی ضبط کیا گیا ۔ پولیس ترجمان نے علاقے میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق جنگجو ئوں فورسز کو کئی کیسوں میںا نتہائی مطلوب تھا ۔ پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز نے مشترکہ طور پر ہند ستی پورہ شوپیان علاقے کو محاصرے میں لیکر وہاں تلاشی کارورائی شروع کی ۔ بیان کے مطابق جونہی علاقے میں تلاشی شروع ہوئی تو جنگجوئوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔پولیس کے مطابق سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔پولیس نے کہا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو جنگجوئوں ہلاک ہو گئے ۔ ابتدائی طور پر مذکورہ جنگجو ئوں لشکر طیبہ کے ساتھ وابستہ تھا۔اسی دوران جونہی کولگام میں دو مقامی جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیل گئی تو وہاں تمام دکان، کاروباری ادارے اور سکول بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوگیا۔اسی دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جونہی دونوں جاں بحق جنگجوئوں کی نعشیں آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران کولگام کے متعدد علاقوں سے لوگوں نے ہڑتال کی پراہ کے بغیر دونوں مہلوک جنگجوئوں کے آبائی علاقوں کا رخ کیا جس دوران انہوں نے نماز جنازوں میں شرکت کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ لوگوں کی بھاری تعداد کے باعث کئی مرتبہ دونوں جاں بحق جنگجوئوں کا نماز جنازہ ادا کیا گیا اور نماز جنازوں میں سر وں کا سمندر امڈ آیا جس کے بعد دونوں مہلوک جنگجوئوں کو آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔

تبصرے
Loading...