ویڈیو: لبریشن فرنٹ چیرمین کی بگڑتی صحت کیخلاف وادی کشمیر میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال سے معمولات مفلوج

تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ، بازار ویران اور سڑکیں سنسنان ،ریل خدمات بھی معطل

0 135

 

سرینگر: لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی این آئی اے حراست میں بگڑتی صحت اور مزاحمتی لیڈران کے خلا ف این آئی اے کی کارروائی کے خلاف متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتالی کال کی وجہ سے وادی کشمیر میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئیں ۔ تمام تعلیمی دارے اور نجی و سرکاری دفاتر میں کام کاج متاثر رہا جبکہ بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں اور ٹریفک معطل رہنے کی وجہ سے سڑکیں سنسان اور بازار ویران دکھائی دے رہے تھے جبکہ ٹرین سروس بھی معطل رکھی گئی۔ سی این آئی کے مطابق تہاڑ جیل میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی بگڑتی صحت کے خلاف متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے منگل کو احتجاجی ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس کے پیش نظر منگل کو وادی بھر میں ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکے رہ گئی ۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع جن میں گاندربل ، بڈگام ، شوپیاں ، کولگام ، اننت ناگ اور پلوامہ کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپوارہ میں تمام کاروباری ادارے دکانات بند رہے جبکہ سڑکوں سے مسافر گاڑیاں بھی غائب رہیں جبکہ تمام نجی و سراکاری تعلیمی ادارے جن میں سکول و کالج شامل ہیں بند رہے ۔ اس دوران بینکوں اور دیگر سرکاری اداروں میں کام کاج نہ ہونے کے برابر رہا اور ملازمین کی حاضری بھی صفر رہی ۔ ادھر سڑکوں سے ٹریفک غائب رہنے اور دکانات بند ہونے کی وجہ سے بازار ویران اور سڑکیں سنسان دکھائی دے رہیں تھی ۔ اس دوران جنوبی کشمیر میں میں انٹرنیٹ سہولیات دن بھر بند رکھی گئی ۔احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص کے حساس علاقوں میں بندشوں اور دیگر علاقوں میں سخت انتظامات کے بیچ وادی کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی۔ سٹی رپورٹر کے مطابق شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا۔مائسمہ ، گا?کدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میںغیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیںجس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میںدکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔اسی دوران سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بانہال اور بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی بند رہی جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلوئے کے ایک سنیئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ریل خدمات کو معطل کیا گیا۔

تبصرے
Loading...