ویڈیو: سرینگر میں نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

19

 

سرینگر: آئے روز ہلاکتوں، کرفیو، کریک ڈاؤنوں، گرفتاریوں، فورسز زیادتیوں خصوصاً اونتی پورہ کے رضوان پنڈت کی حراستی ہلاکت کیخلاف نیشنل کانفرنس کی ایک احتجاجی ریلی پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سے برآمد ہوئی اور لال چوک کی طرف مارچ کرنے لگی لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے ریلی کے شرکاء کو شیر کشمیر پارک کے قریب روک کرآگے جانے کی قطعی اجازت نہیں دی۔ریلی کی قیادت پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کر رہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ،سینئر لیڈران مبارک گل، شمیمہ فردوس، پیر آفاق احمد، عرفان احمد شاہ ، صبیہ قادری، احسان پردیسی اور کئی عہدیداران بلاک صدور صاحبان، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیداران کے علاوہ کارکنوں کی ایک بڑی جمعیت نے شرکت کی۔ جلوس میں گورنر انتظامیہ اور مرکزی حکومت کی عوام کش اور کشمیر دشمن پالیسیوں کیخلاف فلک شگاف نعرے بازی کی گئی۔ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر حراستی ہلاکتیں ۔۔۔ناقابل قبول، انسانی حقوق کی پامالیاں ۔۔۔قبول نہیں قبول نہیں، بے تحاشہ گرفتاریاں ۔۔۔بند کرو بند کرو،حراستی ہلاکت کے ملوثین کو گرفتار کرو گرفتار اور مختلف قسم کی احتجاجی نعرے درج تھے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا کی کشمیر دشمن حکومت زمین بوس ہونے کے بعد اگرچہ عوام نے گورنر راج سے اُمیدیں باندھیں تھیں لیکن گورنر رول میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی، زمینی سطح پر ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مرکزی سرکار اور ریاستی گورنر انتظامیہ نے عوام کیخلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ موجودہ دور میں حراستی ہلاکت کا کوئی جواز نہیں۔ رضوان کی حراستی ہلاکت جمہوری اور آئینی نظام کی تنزلی کی ایک اور کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حراستی ہلاکت کیخلاف ابھی تک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوا ہے، ہلاکت سرینگر میں ہوئی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا کر کیس کو پلوامہ منتقل کیا گیاجو سمجھ سے بالاتر ہے ، حد تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کی معطلی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے جا گرفتاریوں اور بلاوجہ پکڑ دھکڑ سے نوجوان پود عدم تحفظ کی شکار ہے، ہر دن کسی نہ کسی پر پی ایس اے کا اطلاق عمل میں لایا جاتا ہے، جنوبی کشمیر میں دہشت کا ماحول ہے جبکہ یا وادی کشمیر کو ایک اذیت خانہ میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کشمیر میں جنگل راج قائم ہے، لاقانونیت اور غیر یقینیت عروج پر ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس عوام کیخلاف مظالم پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کیساتھ مشروط الحاق کیا ہے اور نئی دلی کو اس الحاق کا احترام کرکے کشمیریوں کیساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک بند کرنا چاہئے۔ علی محمد ساگر نے کہاکہ کیا مہاراجہ نے اسی روز کیلئے بھارت کیساتھ الحاق کیا تھا کہ یہاں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں عمل میں لائی جائیں، ہمارے بچوں کو اسیرزندان بنایا جائے ۔

تبصرے
Loading...