ویڈیو: سرینگر ، ادھمپور پارلیمانی نشستوں کے لئے ووٹنگ کل

دو درجن کے قریب امیدوار میدان میں ۔ پولیس و فورسز ہائی الرٹ

0 200

 

 

سرینگر: سخت ترین حفاظتی انتظامات اور بائیکاٹ کا ل کے بیچ سرینگر بڈگام اور ادھمپور پارلیما نی نشستوں پر آج ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جس دوران نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی امیدوار آغا محسن اور پیپلز کانفرنس کے عرفان انصاری ، چھودھری لال سنگھ ، ڈاکٹر جتندر سنگھ سمیت24امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔اس دوران ووٹنگ میں کسی بھی رخنہ اندازی کو ناکام کرنے کیلئے پور ے وسطی کشمیر میں پولیس و فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ گاندربل اور بڈگام میں کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کیلئے فوج کو بھی تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے۔ شام ہو تے ہی شہر سرینگر سیکورٹی چھاونی میں تبدیل ہو تے نظر آ یا جس کے ساتھ ہی سڑکیں سنسان اور با زار ویران نظرآئے ۔سی این ایس کے مطا بق سرینگر بڈگام پارلیما نی حلقہ میںآ ج انتہا ئی سیکورٹی ا نتظاما ت کے بیچ ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تاہم علیحد گی پسندوں نے روایتی طور اس نشست سے بھی لوگوں کو مکمل با ئیکاٹ کر نے کیاپیل کی ہے تاہم پولیس نے اس تور کر نے کیلئے سخت حفا ظتی انتظاما ت کیساتھ ساتھ گرفتا ریاں بھی عمل میں لا ئیں جبکہ سید علی گیلانی اور دیگر کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بند رکھا جا چکا ہے ۔دریں اثناہ اس پارلیما نی حلقہ میں صبح سات بجے ووٹنگ کاعمل شروع ہو گا جو شام پانچ بجے تک جا ری رہے گا۔ اگر چہ اس نشست پر12 امیدوار قسمت آ زما ئی کر رہے ہیں تاہم جمعرات کو ایک مرتبہ پھر نیشنل کانفرنس کے امیدوار اور شیخ خاندان سے وابستہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پیپلز کانفرنس کے امیدوار و انصاری خاندان سے وابستہ عرفان انصاری کے درمیان مقابلہ ہوگا۔نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پی ڈی پی امیدوار آغا محسن اور پیپلز کانفرنس کے عرفان انصاری کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کی توقع ہیں جبکہ دیگر امیدوار بھی رسمی طور پر انتخابات میں شرکت کر ہے ہیں۔ان انتخابات میں جو دیگر سیاسی امیدوار شامل ہیں ان میں بی جے پی کے خالد جہانگیر،پنتھرس پارٹی کے عبدالرشید گنائی،جنتا دل یونائٹیڈ کے شوکت حسین خان،شیو سینا کے عبدالخالق بٹ،راشٹریہ جن کرانتی پارٹی کے نذیر احمد لون،مانو ادھیکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی،عوامی اتحاد پارٹی کے بلال سلطان کے علاوہ سجاد احمد ڈار اور عبدالرشید باندے بھی شامل ہیں ۔ سرینگر سمیت بڈگام اور گاندربل کے حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کے علاوہ دیگر مرکزی فورسز کو بھی ایک روز قبل ہی تعینات کیا گیا جبکہ انہیں سخت تاکید کی گئی ہے کہ کسی بھی طرح کی گڑ بڑھ کو روکنے کیلئے وہ متحرک رہیں۔ سیکورٹی فورسز نے سری نگر کے داخلی راستوں اور سیول لائنز میں کچھ ایک مقامات پر خصوصی ناکے بٹھائے ہیں جہاں گاڑیوں کی چیکنگ کے علاوہ مسافروں کی جامہ تلاشی لی جاتی رہی۔ رام منشی باغ پولیس تھانے کے متصل سرینگر جموں شاہرہ پر ناکہ بٹھایا گیا ہے جہاں سیول لائنز میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ کی جارہی ہے جبکہ ان میں سوار افراد کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ اْن کے شناختی کارڈ چیک کئے جارہے ہیں۔ ایسا ہی ایک ناکہ مولانا آزاد روڑ پر پولو گراؤنڈ کراسنگ کے نزدیک بٹھایا گیا ہے جہاں تعینات سیکورٹی فورس اہلکار گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کرتے ہوئے نظر ا?ئے ۔نما ئند ئے کے مطا بق دور روز قبل ہی سرینگرپارلیمانی نشست کے تمام پولنگ مراکز کو فورسز کی تحویل میں دیدیا گیا۔پولیس اور فورسز کو چوکنارہنے کی علاوہ مشکوک افراد پر نگاہ رکھنے کی سخت ہدایات دی گئیں ہیں۔ سرینگر بڈگام پارلیمانی حلقہ انتخاب میں انتخابی عملے کو مواد سمیت تیاری کی حالت میں رکھا گیا ہے اور ان کی سیکورٹی کیلئے بھی کڑا بندو بست کیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کل بارہمولہ سے سرینگر شاہراہ پر سینکڑوں پرائیویٹ بسوں اور لڑکوں کا ایک بہت بڑا قافلہ دن بھر سی آر پی ایف اہلکار اور مختلف سامان لیکر سرینگر میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے نہ صرف مذکورہ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل متاثر ہوگئی بلکہ شہر کے اندر بھی نظام ٹریفک کافی متاثرہوگیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے علاوہ ضلع پلوامہ، شوپیان، اسلام آباد اور لولگام سے ریاستی پولیس کے اضافی دستے بھی شہر طلب کئے گئے ہیں ۔ گاندربل اور بڈگام اضلاع کے حساس علاقوں میں کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کیلئے فوج کو بھی تیار رہنے کی ہدایت دی گئیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس پارلیمانی سیٹ کے تمام پولنگ مرکزوں کو ووٹنگ سے دو روز قبل ہی پولیس و فورسز کی تحویل میں دیا گیا ہے ۔ جبکہ پولنگ عملہ بھی پولنگ مرکزوں پر پہلے ہی پہنچ گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پرامن انتخابات کو یقینی بنانے اور ان انتخابات میں کسی بھی رخنہ اندازی کو ناکام کرنے کیلئے راونڈ دی کلاک گہری نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ووٹروں میں تحفظ کا احساس دلانے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے تمام علاقوں میں سخت چوکسی برتی جارہی ہے ۔ اُدھر گاندربل اور بڈگام سے ملی تفصیلات کے مطابق ان دونوں اضلاع میں بھی پرامن ووٹنگ کیلئے تمام تر احتیاطی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے ووٹنگ کے لئے تمام ضروری سامان جن یں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں بھی شامل ہیں پہلے ہی تمام پولنگ مراکزوں پر پہنچادی گئیں ہیں۔سی این ایس کے مطا بق دوسرے مرحلے پر سرینگر میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پیشگی میں ہی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جبکہ وسطی کشمیر میں داخل ہونے والے راستوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے علاوہ مشتبہ افرادپرنظر گزر رکھی جا رہی ہے ۔انتخابات کو پر امن طور پر انجام دینے کیلئے مزاحمتی نوجوانوں اور کارکنوں کے علاوہ مشتبہ افراد کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔

تبصرے
Loading...