ویڈیو: دلی کو مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل اور اندرونی خودمختاری کی بحالی کیلئے تیار کرنا چاہتے ہیں/عمر عبداللہ

آنے والی لڑائی 35اے اور 370کو بچانے کیلئے ہوگی

0 126

 

سرینگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’ہم وہ لوگ نہیں جو اقتدا رمیں رہ کر ایک بات کرتے ہیں اور اقتدار میں آکر دوسری بات ، یہ وہی جگہ ہے جہاں میں نے بحیثیت وزیر اعلیٰ ملک کے وزیر اعظم شری منموہن سنگھ سے کہا تھا کہ آپ جموںوکشمیر کیلئے فنڈس اور پیکیج بھیجتے ہیں اُس کا بہت شکریہ لیکن جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اس کا حل آپ پیسوں سے نہیں خرید سکتے اور اس کا سیاسی حل بات چیت کے ذیعے حاصل کرنا ہوگا۔ہم یہی پیغام دوبارہ دلی کو دینا چاہتے ہیں، 23مئی کے بعد جب مرکز میں نئی حکومت بنے گی ہم دلی کو جموں وکشمیر کا سیاسی حل نکالنے کیلئے تیار کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اندرونی خودمختاری دوبارہ بحال ہو‘‘۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے ژول گام کولگام اور ونپو ہوم شالی بگ میں چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، نامزد اُمیدوار جسٹس (ر) حسنین مسعودی، سینئر لیڈران ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، بشارت بخاری، تنویر صادق، عمران نبی ڈار، سلام الدین بجاڑ کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جن سازشوں کا ہمیں سامنا کرنا ہے، جن طاقتوںکا ہمیں مقابلہ کرنا ہے، اُس کیلئے بہت ضروری ہے کہ ہم یہاں سے ایسا اُمیدواردلی بھیجیں جو وہاں جاکر کچھ بول سکے، جو وہاں پر ہمارے حقوق کیلئے لڑ سکے، جو وہاں پر ہماری آواز کو بلند کرسکے۔ہم چاہتے تو ہم کسی سیاست دان کو میدان میں اتارتے، یہ دیکھتے ہوئے یہ آنے والی لڑائی 35اے اور 370کو بچانے کیلئے ہوگی ،اس کیلئے ہم نے جسٹس (ر) حسنین مسعودی کو میدان میں اتارا کیونکہ یہ لڑائی لڑنے کیلئے اُن سے بہتر کوئی نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ بھاجپا صدر، وزیرا عظم اور دیگر لیڈران کی طرف سے شائد ہی کوئی تقریر ہوتی ہے جس میں جموں و کشمیر کو دھمکی نہیں دی جاتی، جہاں جموںوکشمیر کو ڈرانے کی کوشش نہیں کی جاتی، جہاں دفعہ370اور دفہ35اے کو ہٹانے کی بات نہیںہوتی۔ بھاجپا والے آئے روز یہی دہراتے رہتے ہیںکہ حکومت ملنے کے ساتھ ہی وہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا کام شروع کریں گے۔ اگر یہ دفعات صرف کاغذ کے ٹکڑے ہوتے تو شائد ہمیں اس کو بچانے میں اتنی دلچسپی نہیں ہوتی، لیکن ہماری شناخت، ہماری پہچان، ہمارے نوجوانوں کا روزگار اور ہمارے بچوں کے تعلیمی حقوق اور مستقبل اس قانون کیساتھ جڑا ہوا ہے۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارا مقابلہ اُنکے ساتھ ہے جس کا نشان قلم دوات ہے اور جنہوں نے بھاجپا کیساتھ مل ریاست کی ایسی حالت کردی جو بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔کل جو الیکشن ہوا، ووٹ کہاں سے پڑے؟جو بجبہاڑہ پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا تھا وہاں مٹھی بھر ووٹ پڑے۔ جس اننت ناگ کی نمائندگی نومبر 2018تک محبوبہ مفتی کرتی تھی، جہاں سے انہوں نے 2016میں 12ہزار کے فرق سے الیکشن جیتا تھاآج وہاں صرف3ہزار ووٹ پڑے۔آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیںکہ پی ڈی پی نے یہاں کی حالت کس قدر خراب کردی ہے۔ محبوبہ مفتی کے بھائی، جو اس وقت ایم ایل سی بھی ہیں، نے اپنی بہن کو اپنے ووٹ کے لائق نہیں سمجھا۔‘‘ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ’’جو بہن اپنے بھائی کا ووٹ حاصل نہیں کرسکیں، کیا وہ عوام کے ووٹ کی حقدار ہوسکتی ہے؟ پی ڈی پی نے وعدے تو بہت کئے لیکن ان کا ایفاء کرنے کیلئے سنجیدگی نہیں دکھائی، نہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا، نہ امن قائم رکھ سکے، نہ 370کو بچا پائے، نہ پاور پروجیکٹ واپس لاسکے، نہ افسپا ہٹا سکے، نہ فوج کی تعداد کم کرسکے ۔ اگر پی ڈی پی نے اس ریاست کو کچھ دیا تو وہ بے بسی، تنہائی، ظلم سختی، بربادی اور خون خرابہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کا نشان قلم دوات ہے لیکن ہمارے بچوں کو قلم تھمانے کے بجائے ان لوگوں نے پیلٹ، گولیوں اور ٹیئر گیسوں کی بارش کروائی۔ ’’محبوبہ مفتی کی طرف سے پہلگام جاکر آنسو بہانے کا کیا فائدہ؟ اگر یہ آنسو اقتدار میں بہے ہوتے تو ان کی کوئی وقعت ہوتی لیکن آج یہ آنسو صرف اور صرف الیکشن کیلئے ہیں۔ اس موقعے پر پارٹی لیڈران ایڈوکیٹ عبدالرحمن تانترے، صفدر علی خان، بشیر احمد رینہ، رفیق احمد خان کے علاوہ کئی عہدیداران بھی موجو دتھے

تبصرے
Loading...