ویڈیو: تعمیراتی ٹھیکہ داروں کا راجباغ میں احتجاج ، حکمنامہ واپس نہ لینے کی صورت میں تعمیراتی دفاتر مقفل کرنے کا اعلان

31

تعمیراتی کاموں کے بقایاجات کا محض 15فیصد رقم واگزار کرنے کا سرکاری حکمنامہ

 

سرینگر: تعمیراتی کاموں کے بقایاجات کا محض 15فیصد رقم واگزار کرنے کے سرکاری اعلان کے خلاف زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے تعمیر اتی ٹھیکہ داروں نے گورنر انتظامیہ پر واضح کیا کہ فیصلے کو جلد از جلد واپس نہیں لیا گیا تو تعمیراتی دفاتر پر تالا چڑھا کر انہیں مقفل کیا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ تعمیری کاموں کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا ۔سی این آئی کے مطابق سرکار کی طرف سے جاری کردہ حکم نامہ زیر نمبر 186-Fof2019بتاریخ 7مارچ 2019میں یہ واضح کیا گیا کہ ٹھیکہ داروں کی طرف سے دائر کی گئی Work Done Claimکا محض 15فیصد رقم واگزار کیا جائے ، حکمنامہ کے خلاف جے کے سنیٹرل کانٹریکٹرس کارڈنیشن کمیٹی کے بینر تلے سینکڑوں کی تعداد میں تعمیراتی ٹھیکہ داروں نے سرینگر کے راجباغ علاقے میں قائم چیف انجینئر افس کے سامنے زور دار احتجاج کیا ۔احتجاجی تعمیراتی ٹھیکہ دار 15فیصد رقم منظور نہیں ، منظور نہیں ، گونرر صاحب ہوش میں آئوں کے نعرے بلند کر رہے تھے ۔ احتجاج میں شامل تعمیراتی ٹھیکہ داروں کا کہنا تھا کہ گورنر انتظامیہ کی طرف سے جاری کر دہ حکمنامہ ان کیلئے قابل قبول نہیں ہے او ر مطالبہ کیا کہ اس حکم نامے کو جلد از جلد واپس لیا جائے ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے کے سنیٹرل کانٹریکٹرس کارڈنیشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق احمد ڈار نے گورنر انتظامیہ طرف سے پائے تکمیل تک پہنچنے والی کاموں کیلئے 15فیصد رقومات واگزار کرنے کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ سرکار کی طرف سے جاری کردہ حکم نامہ تعمیراتی ٹھیکہ داروں کیلئے کسی بھی میں قابل قبول نہیں ہے ۔فاروق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے حکم نامہ جاری کرنے سے وادی کے ٹھیکہ دار اقتصادی بد حالی کے شکار ہو جائیں گے جبکہ پہلے ہی یہاں کے ٹھیکہ داروں نے بینکوں سے رقومات حاصل کرکے کاموں کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہے اور اب ریاستی سرکار کی طرف سے اس طرح کے حکمنامہ جاری کرنے سے ٹھیکہ داروں کو اندھیرے کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے ۔ اجلاس میں ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ ان کے واجب الادا ررقومات جلد از جلد وااگزار کئے جائے جبکہ سال 2017-18کے بقایا جات بھی فورا سے بیشتر واگزار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر ریاستی سرکار کی طرف سے اس حکمنامہ کو واپس نہیں لیا گیا تو تمام تعمیراتی دفاتر پر تالا چڑھا کر انہیں مقفل کیا جائے جبکہ آئندہ بھی تعمیراتی کاموں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا جس کی ذمہ داری گورنرا انتظامیہ پر عائد ہو گی ۔

تبصرے
Loading...