ویڈیو: ترال کے جنگلات میں مسلح تصادم آرائی ، ذاکر موسی گروپ سے وابستہ مقامی جنگجو جاں بحق

مہلوک جنگجو آبائی علاقے میں سپرد خاک ، فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ، پیلٹ لگنے سے چار نوجوان زخمی

0 21

 

سرینگر/26جون/سی این آئی// جنوبی قصبہ ترال کے جنگلات میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں انصار غزۃ ہند سے وابستہ مقامی جنگجو جاں بحق ہو گیا ۔ جھڑپ کے بعد ترال کے کئی علاقوں میں فورسز اور نوجوانوں کے مابین پُر تشدد جھڑپیں ہوئی جس دوران پیلٹ لگنے سے تین نوجوان زخمی ہو گئے ۔ جھڑپ کے ساتھ ہی انتظامیہ نے افواہوں کی روکتھام کیلئے موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کی ۔ اسی دوران مہلوک جنگجو کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قصبہ ترال کے برین پتھری نامی جنگلی علاقے میںدو سے تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی ترال نے بدھ کی صبح جنگلات کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارورائی شروع کی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنگلات میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب نزدیکی جنگل میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اند دھند گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی فورسز نے بھی مورچہ زن ہوکر جوابی کارروائی کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی ۔ ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے جنگلات میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ کئی گھنٹوں کی گولہ باری کے بعد جونہی علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا توجھڑ پ کے مقام سے ایک جنگجو کی نعش بر آمد کی گئی جس کی شناختشبیر احمد ملک ساکنہ ناگہ بل ترال کے بطور ہوئی اور جنگجو کا تعلق عسکری تنظیم انصار غزۃ ہند سے تھا جبکہ اس کے قبضے سے اے کے 47رائفل بر آمد کی گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ ترال کے درجنوں علاقوں میں مقامی جنگجو کے جاں بحق ہونی کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں چار نوجوان زخمی ہو گئے ۔پولیس نے جھڑپ میں جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گیا جنگجوپولیس و فورسز کو کئی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھا ۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام سے قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کیا گیا جبکہ اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔اسی دوران جونہی مہلوک جنگجو کی نعش آبائی علاقے میں پہنچایا گیا تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ ردن بھر جاری رہا۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے بیچپلوامہ کے درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجو کے آبائی علاقے کا رخ کیا جس دوران انہوں نے جاں بحق جنگجوکا نماز جنازے ادا کیا ۔جس کے بعد انہیں اپنے آبائی مقبروں میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوکے یاد میں اونتی پورہ اور ترال میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ۔پولیس کے مطابق شبیر لشکر طیبہ سے وابستہ تھا تاہم بعد میں اْس نے ذاکر موسیٰ کی قیادت والی انصار غزوۃ الہند نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی ۔

تبصرے
Loading...