ویڈیو: برہان وانی کی تیسری برسی ، وادی کشمیر میں بندشیں اور ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج

شہر خاص کے کئی علاقوں میں بندشیں ، جنوبی کشمیر میں انٹر نیٹ سروس معطل، دیگر اضلاع میں2Gرفتار رہی

0 25

سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بانہال بارہمولہ ریل سروس بھی معطل ، مسافروں اور صارفین کو پریشانی کا سامنا

سرینگر/08 جولائی/ سی این آئی معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی کے موقعے پر مشترکہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے سوموار کو مکمل ہڑتال کی کال کے پیش نظر وادی کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی کا پہہ مکمل طور پر جام ہو کر رہ گیا ۔اسی دوران احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے پائین شہر کے سات پولیس تھانوں اور جنوبی کشمیر کے ترال اور پلوامہ علاقوں میں سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا تھا جبکہ وادی کے بیشتر علاقوں میں سخت ترین بندشوں کے نتیجے میں لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ۔ادھر جنوبی کشمیر کے تما م اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل رہی جبکہ وادی کے دیگر اضلاع میں اس کی رفتار کم رہی ساتھ ہی بانہال سے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی معطل رہی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق معروف حز ب کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی کے موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی مکمل ہڑتال کی کال اور ترال چلو کے پیش نظر پائین شہر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں اور جنوبی کشمیر کے قصبہ پلوامہ اور ترال میں سخت ترین کرفیو اور دوسرے اضلاع میں بندشوں کے نفاذ کے بیچ وادی میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال رہی ۔ شہر کے 7پولیس تھانوں نوہٹہ، مہاراج گنج،رعناواری ،صفاکدل، نوہٹہ ،مائسمہ اور خانیارمیں سوموارکی صبح سے ہی سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تھے جس کے تحت کئی علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔لوگوں نے بتایا کہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ ادھر سیول لائنز میں ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں بڑی تعداد میں تعینات سیکورٹی فورسزاہلکار کسی بھی شخص کو مائسمہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ مائسمہ کے علاوہ تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جہاں برہان وانی کے آبائی علاقہ قصبہ ترال اور پلواہ میں اعلانیہ کرفیو، وہیں قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔ سیکورٹی فورسز نے برہان وانی کی برسی کے پیش نظر ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو اتوار کے روز ہی سیل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ قصبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ قصبہ میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور اور دیگر قصبوں و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج رہی۔ بارہمولہ سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں جہاں تمام تجارتی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔ قصبے میں اولڈ ٹاون کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے جن قصبہ جات اور تحصیل ہیڈکوارٹروں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ ایسی ہی رپورٹیں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔اسی دوران سخت سیکورٹی کے باوجود جنوبی قصبہ ترال ،سرینگر اور دوسرے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران مظاہرین اور فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئی ۔ ادھر مجموعی طور وادی کشمیر میں ہمہ گیر ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاورباری سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔

تبصرے
Loading...