ویڈیو: اونتی پورہ میں عام لوگوں اور سکھوں کا مشترکہ احتجاجی مظا ہر ہ۔قبر کشائی کامطالبہ

54

رضوان پنڈت کی فرار ہونے کی کوشش سے متعلق رپورٹ مسترد

سرینگر:  پولیس میں حراست میں مارے گئے اونتی پورہ کے اسکول پرنسپل کے قریبی رشتہ داروں اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مقامی سکھوں نے زوردار احتجاج مظا ہر ے کرتے ہوئے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ رضوان پنڈت فرار ہونے کی کوشش کے دوران جابحق ہو گیا ۔ مظا ہر ین نے مذ کورہ کی قبر کشا ئی کا مطالبہ کر تے ہوئے دہرایا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی ابدی نیند سلادیا گیا۔ سی این ایس کے مطابق میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ جس میں کہا گیا تھا کہ رضوان پنڈت نامی جوں سال استاد سرینگر میں قائم کارگو پولیس کیمپ میں فرار ہونے کی کوشش کے دوران مارا گیا کے خلاف جمعرات کو اونتی پورہ میں گوردوارہ کے پاس ایک بڑا احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔ احتجاج مظا ہرین میں مرحو م کے رشتہ داروں کے ساتھ عام لو گ اور سکھ فرقے سے وابستہ افرادبھی شامل تھے جنہوں نے مل کر ا س دعویٰ کومسترد کیا کہ رضوان نے حراست کے دوران بھاگنے کی کوشش کی تھی جس کے دوران وہ جاں بحق ہوگیا۔ مظا ہرین نے’’ہمیں انصاف چاہئے‘‘ اور ’’رضوان کے قاتلوں کو پیش کرو‘‘ جیسے نعرے بلند کئے۔ مظاہرین میں شامل رضوان کے رشتہ داروں نے کہا کہ اْسے پولیس نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے رضوان کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رضوان کی قبر کشائی کی جائے تاکہ اْس کے جسم پر لگے زخم سب کو دکھائے جاسکیں۔ خیال رہے کہ مذ کورہ رپورٹ کے بعد جمعرات کو نئی دہلی سے جاری ہونے والے ایک اور خبر میں لاش کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رضوان کے جسم پر ہر جگہ کاٹنے کے نشان تھے۔اْس کی بائیں بازو اور آنکھ پر اندرسے خون بھی جم گیا تھا جس کی وجہ سے دونوں جگہ پر کافی ورم تھا۔ رپورٹ میں مذکورہ آفیشل کے حوالے سے رضوان کے مرنے کی وجہ حرکت قلب بند ہونے کو مسترد کردیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق رضوان کی ٹانگوں پر رولر چلایا گیا ہوگا جس کی وجہ سے اس کی رگوں اور نسوں کو کافی نقصان پہنچ گیا تھا۔

تبصرے
Loading...