ویڈیو: افغانستان میں مذاکرات ممکن تو کشمیر پر کیوں نہیں ؟ /فاروق عبداللہ

شاہراہ پر پابندی سے متعلق انتظامیہ کا بیان گمراہ کن

0 31

سرینگر: مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں وہ خواب غفلت میں ہیں ، اگر کشمیر کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تو یہاں اقوام متحدہ کے مبصر نہیں ہوتے نہ ہی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں ہوتا۔سی این آئی کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نسیم باغ درگاہ حضرت بل میں مادرِ مہربان کی 19برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے کئی سرکردہ لیڈران اور عہدیداران موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے علاوہ آر پار کشمیریوں میں بھی مذاکرات ہونے چاہئیں اور ایک ایسا حل نکالنا چاہئے جو سب کو قابل قبول ہو اور کسی کو ہار کا احساس نہ ہو۔ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے ،طاقت اور دھونس و دبائو سے حقیقت کو بدلا نہیں جاسکتا۔ جب تک اس کا فیصلہ عوامی اُمنگوں کے عین مطابق نہیں ہوتا تب یہاں کے حالات میں سدھار کی کوئی اُمید نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار پاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے دہشت گردی کو مشروط کرتی ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کو ہے، وہاں دونوں طرف سے گولیاں چل رہی ہیں لیکن مذاکرات کا سلسلہ برابر چل رہا ہے۔ اگر افغانستان میں یہ پالیسی اختیار کی جاسکتی ہے تو یہاں ایسا نہیں ہوسکتا۔ اُن کا کہنا تھا کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے پاکستان سمیت تمام متعلقین کیساتھ بات چیت کرنی ہی ہوگی۔ملک کی موجودہ حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ’’ہندوستان آج وہ ملک نہیں جو 1947میں تھا، آج ہندوستان وہ ملک نہیں رہا جو ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی ، بودھ اور سب کیلئے برابر تھا، آج ملک کا نقشہ بدلنے کی مذموم کوششیں کی جارہیں، ملک کو ایک ہندو راشٹرا بنایا جارہا ہے، ایسے میں ہمیں اتحاد و اتفاق کیساتھ رہ فرقہ پرستی پر مبنی اس سوچ کو ناکام بنانا ہے۔ ‘‘ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’یہ لوگ ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کے نعرے لگاتے ہیں لیکن دوسری جانب بجٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر مزید ٹیکس عائد کرتے ہیں، جس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا۔ ایسے میں سب کا وکاس کیسے ہوسکتا ہے؟ غریبی کیسے دور ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اکثریت کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر غریبوں پر مزید بوجھ ڈالا۔ شاہراہ پر پابندیوں کو مکمل طور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ گورنر انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ شاہراہ پر کوئی پابندی نہیں جو سراسر بے بنیاد ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے عام ٹریفک کو جگہ جگہ پر کئی کئی گھنٹوں تک روکا جاتا ہے۔ انتظامیہ کو ایسی غلط بیانی سے پرہیز کرنا چاہئے اور فوری طور پر ان پابندیوں کو ختم کیا جانا چاہئے۔

تبصرے
Loading...