ویڈیو:‌شمالی اور جنوبی کشمیر میں چار مقامات پر خونین جھڑپیں جاری لشکر کمانڈر سمیت 6جنگجو جاں بحق۔ دس سالہ لڑکا بھی از جان

فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دو درجن افراد مضروب ، نوجوان کو نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا

0 63

 

سرینگر ؍؍22مارچ؍ جے کے این ایس؍؍ شمالی اور جنوبی کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں لشکر طیبہ کمانڈر سمیت 6عسکریت پسند اور دس سالہ لڑکا جاں بحق، آٹھ فورسز اہلکار مضروب۔ شوپیاں اور بارہ مولہ میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی نوجوان کی گرد ن پر گولی لگی اور اُسے نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق حاجن بانڈی پورہ میں عسکریت پسندوں نے دس سالہ لڑکے کو یرغمال بنا کر بعد میں اُس کا بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے حاجن بانڈی پورہ ، سوپور ، بارہ مولہ اور جنوبی کشمیر کے گڈ اپورہ شوپیاں میں سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران چھ جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔ نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز سیکورٹی فورسز نے گڈا پورہ شوپیاں گاؤں کو محاصرے میں لے کر جونہی گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی اس دوران رہائشی مکان میں موجود عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ شروع کی چنانچہ فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں کافی دیر تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا ۔

 

نمائندے نے بتایا کہ فورسز نے جھڑپ کی جگہ دو عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی ہے جبکہ آس پاس علاقوں میں تلاشی آپریشن جاری ہے کیونکہ فورسز کو مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ گڈا پور ہ شوپیاں علاقے میں مزید دو کے قریب جنگجو چھپے بیٹھے ہیں۔ ادھر حاجن بانڈی پورہ میں جمعرات اعلیٰ الصبح سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری رہنے والی جھڑپ جمعہ سہ پہر کے بعد اختتام پذیر ہوئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے رہائشی مکان میں دو افراد کو یرغمال بنایا جس کے نتیجے میں کافی وقت لگا۔ پولیس کے مطابق مقامی ذی عزت شہریوں کی مدد سے ایک معمر شہری کو بحفاظت باہر نکالا گیا تاہم دس سالہ لڑکے کو جنگجوؤں نے نہیں چھوڑا حالانکہ لڑکے کے والدین نے عسکریت پسندوں سے مودبانہ اپیل کی کہ اُن کے بیٹے کو رہا کیا جائے تاہم اُس کے بدلے میں عسکریت پسندوں نے دس سالہ لڑکے کا بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق لڑکے کو قتل کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو جاں بحق ہوئے اور اُن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ ادھر بارہ مولہ کے کنڈی کلنترہ گاؤں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ اختتام پذیر ہوئی ہے اور اس تصادم میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق جھڑپ کے دوران سوپور کا رہنے والا جیش جنگجو عامر احمد جاں بحق ہوا جبکہ اُس کا ساتھی جو کہ پاکستان کا رہائشی ہے بھی مارا گیا۔ دریں اثنا وار پورہ سوپور میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ دوسرے روز بھی داخل ہوئی ہے اور اب تک ملی ٹینٹوں کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ادھر بارہ مولہ اور شوپیاں میں نوجوانوں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ہیں۔ نمائندے کے مطابق گڈا پورہ شوپیاں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہونے کی خبر پھیلتے ہی لوگ گھروں سے باہر آئے اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرئے کئے۔ نمائندے نے بتایا کہ تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ اور راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی گرد ن کو گولی لگی اور اُس کو نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ نمائندے نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید تصادم آرائیاں جاری ہیں اور فورسز اہلکار شہریوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ عسکریت پسند ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر فوراً اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی۔ ابتدائی طورپر رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں نے ایک کمسن لڑکے سمیت دو عام شہریوں کو یرغمال بنایا چنانچہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی ذی عزت شہریوں کی مدد سے 60سالہ معمر شہری عبدالحمید کو بحفاظت باہر نکالا۔ تاہم عسکریت پسندوں نے آخر تک 12سالہ لڑکے عاتف میر کو یرغمال ہی بنائے رکھا۔اگر چہ مذکورہ ملی ٹینٹوں کو کمسن لڑکے کی رہائی کیلئے مقامی لوگوں کی وساطت سے بار بار آگاہ بھی کیا گیا تاہم انہوں نے کسی کی نہیں سنی اور بالآخر دس سالہ لڑکے کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا۔ فرار ہونے کی تمام راہیں مسدودپا کر عسکریت پسندوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو ملی ٹینٹ جاں بحق ہوئے۔سیکورٹی فورسز نے جائے جھڑپ پر دونوں ملی ٹینٹوں کی نعشیں برآمد کیں ۔جھڑپ کی جگہ برآمد شدہ قابلِ اعتراض مواد سے باور کیا جارہا ہے کہ دونوں پاکستان کے رہائشی ہے اور اُن کی شناخت علی اور حبیب کے بطور ہوئی ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک عسکریت پسند لشکر طیبہ سے وابستہ تھے اور وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے اور اْن کے خلاف کئی کیس بھی رجسٹر ہیں۔ مذکورہ عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر کئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اْنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے سلسلے میں بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھے۔تصادم کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ مہلوک عسکریت پسندوں کی دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بھی جانچ پڑتال ہور ہی ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ پولیس نے عوام سے پُر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اُسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اُس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔

تبصرے
Loading...