ویڈیو:نیشنل ہائی وائے اتھارٹی اف انڈیا کے ہاتھوں سرینگر جموں شاہراہ کی مکمل تعمیر تک کوئی ٹول ٹیکس ادا نہیں کیا جائیگا/ کشمیر اکنامک الائنس

گورنر انتظامیہ فیصلہ پر نظر ثانی کرے ،بصور ت دیگر جنوبی کشمیر کے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے

0 66

 

سرینگر: نیشنل ہائی وائے اتھارٹی اف انڈیا کے ہاتھوں سرینگر جموں شاہراہ کی مکمل تعمیر تک کوئی ٹول ٹیکس ادا نہیں کیا جائے گا کی بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے کہا ہے کہ ملک کے ساتھ ساتھ ریاست جموں کشمیر میں جی ایس ٹی نفاذ ہونے کے بعد تمام گاڑیوں او ر ٹرانسپورٹروں کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تو اب کیگام سنگم کے نزدیک ٹول پوسٹ سے ٹیکس وصول کرنے کا کیا جواز بنتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کشمیر اکنامک لائنس کے شریک چیرمین فاروق احمد ڈار کی کی قیادت میں الائنس کے زعمائوں نے سرینگر کی پریس کالونی میں ٹول ٹیکس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کیگام سنگم کے نزدیک ٹول ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے بصورت دیکرجنوبی کشمیر کے تمام لوگ اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ نیشنل ہائی وائے اف اتھارٹی نے جموں کشمیر کے مختلف مقامات پر تین ٹول پوسٹ قائم کئے ہیں جو کہ ان کیلئے نا قابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وائے اتھارٹی اف انڈیا کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک نہ تین سو کلو میٹر لمبی سرینگر جموں شاہراہ کی مکمل تعمیر عمل میں لائی جائے گی تب تک کسی بھی گاڑی سے ٹول وصول نہیں کیا جائے گا چاہئے وہ مال بردار گاڑی ہو یا مسافر گاڑی ۔ڈار نے کہا کہ رام بن سے لیکرلورمنڈا تک قریب 100کلو میٹر سڑک ابھی انتہائی خستہ حالت میں ہے جس کے باعث ہمارے مال بردار گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روک دیا جاتا ہے جس کے باعث ان میں موجود مال کو کافی نقصان پہنچ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی تعمیر مکمل ہونے سے قبل ہی ٹول وصول کرنا کشمیر اکنامک الائنس کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کے ساتھ سر اسر نا انصافی ہے کیونکہ کھٹوعہ اور سانبہ میںبھی ٹول پوسٹ قائم کئے گئے تھے جس کے بعد بعد مرکزی وزیر جتندر سنگھ کی مداخلت کے بعد ان کا ہٹایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ریاست میں کسی بھی جگہ ٹول پوسٹ کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ سنگم کے نزدیک ٹول ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے بصورت دیکرجنوبی کشمیر کے تمام لوگ اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ احتجاج میں کشمیر اکنامک الائنس کے ترجمان اعلیٰ محمد صدیق رونگا، کے ٹی ایم ایف کے صدرر محمد صادق بقال ، کشمیر اکنامک الائنس کے نائب چیرمین اعجاز شہدار ، کشمیر مکس ٹورسٹ کیب کے چیرمین غلام نبی پانڈو ، پارمپورہ سومو ایسوسی ایشن کے صدر مدژر احمد ، حاجی نثار احمد بٹ ،شکارہ ایسوسی یشن کے صدر ولی محمد بٹ ، جنگلات گلی دکاندار ایسویسی ایشن کے صدرعبد ل حمید ، اسٹیٹ کے صدر جاوید احمد زرگر اور پریذڈنٹ اسٹیٹ ظفر احمد شاہ وغیرہ شامل تھے ۔ ادھر الائنس کے ترجمان اعلیٰ محمد صدیق رونگا نے بھی اس بات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حد تو یہ ہو گی ہے کہ اب وادی کشمیر کے لوگوں کو چلنے کیلئے بھی پیسہ ادا کرنے ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ کیگام سنگم میں ٹول پوسٹ سے مقامی باشندوں سے ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے اور مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو جلد از جلد واپس لیا جانا چاہئے ۔

تبصرے
Loading...