ویڈٰیو:جمعتہ الوداع کی تقریب سعید انتہائی تزک و احتشام اور عقیدت و احترام کیساتھ منائی گئی

لاکھوں فرزندان توحید نے باجماعت نماز جمعہ ادا کی، بڑی تقاریب جامع مسجداور درگاہ حضرت بل میں

0 105

 

سرینگر// پورے عالم اسلام کی طرح وادی کشمیر میں بھی جمعتہ الوداع کی تقریبات انتہائی تُزک و احتشام کے ساتھ منائی گئیں اور اس سلسلے میںوادی کے طول و عرض میں روح پروراجتماعات کا اہتمام ہوا جس کے دوران لاکھوں فرزندان توحید نے نماز جمعہ کے موقعہ پر بار گاہ الٰہی میں گڑگڑ اکرگناہوں کی مغفرت طلب کی۔سی این آئی کے مطابق ماہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعتہ الوداع کے حوالے سے سب سے بڑی تقریبات آثار شریف حضرت بل اور جامع مسجد سرینگر میں منعقد ہوئیں جہاں لاکھوں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز جمعہ ادا کی۔اس سلسلے میں صبح سے ہی درگاہ اور اسکے گردونواح کے لوگوں اور چھوٹی بڑی گاڑیوں کا بھاری رش دیکھنے کو ملا اور عقیدتمندوں کی بھاری تعداد سویرے سے ہی درگاہ پہنچنا شروع ہوگئی۔نمائندے کے مطابق وادی کے شمال و جنوب سے سینکڑوں گاڑیوں میں سوار ہزاروں کی تعداد میں لوگ دوپہر تک حضرت بل پہنچ گئے ۔درگاہ میں لوگوں کی بھاری آمد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ درگاہ اور آس پاس کے علاقوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی طرف جانے والے تمام راستوں پر زبردست ٹریفک جام سے لوگ شدید مشکلات میں مبتلا ہوگئے اور دوپہر ہوتے ہوتے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہوکر رہ گیا۔ باسی طرح کی صورتحال شہر کے دیگر بازاروں میں بھی دیکھنے کو ملی اور درگاہ جانے والے مسافروں کی سینکڑوں گاڑیوں کو بھی ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔سخت گرمی کے باوجود درگاہ حضرت بل میں دوپہر سے قبل ہی لوگ صفوں میں بیٹھے درور و اذکار میں محو تھے جن میں خواتین کی بھی ایک بھاری تعداد شامل تھی جو اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگتی رہیں۔ان تقاریب کے حوالے سے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جبکہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ گذشتہ شب سے ہی وہیں موجود تھے اور وہ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد ہی حضرت بل سے روانہ ہوگئے۔ اس موقعہ پردرگاہ میں درودو اذکار کی گونج میں خواتین سمیت زائرین نے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں اپنے گناہوں کی مغفرت مانگی ۔عقیدت مندوں کے جوش و خروش کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گرمی کے نتیجے میں کئی خیموں کے گرنے کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کھلے آسمان تلے نماز ادا کی۔چونکہ عالم اسلام گذشتہ کئی دہائیوں سے جمعتہ الوداع کو قبلہ اول کی بازیابی کے دن کے طور بھی مناتا ہے، اس لئے درگاہ حضرت بل میں لوگوں نے عالم اسلام، خصوصاً فلسطین کے لوگوں اور مسجداقصیٰ کی بازیابی کے حق میں بھی دعائوں کا اہتمام کیا۔یہاں لوگوں کی بھاری تعداد جمع ہونے کے نتیجے میں آتے اور نکلتے وقت زبر دست ٹریفک جام اور دھکم پیل کے مناظربھی دیکھے گئے ۔ جمعتہ الوداع کی ایک اوربڑی تقریب جامع مسجد سرینگر میں منعقد ہوئی جہاں کم و بیش ایک لاکھ لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی جس کے بعد ایک دعائیہ مجلس منعقد ہوئی جس میں ریاست میں امن و آشتی اور ناگہانی آفات سے نجات کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ نماز سے قبل میر واعظ مولوی عمر فاروق نے فلسفہ جمعتہ الوداع پر مفصل روشنی ڈالتے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آپکو عالم اسلام کے مفادات سے جڑے رکھنے کے لئے اقدامات کریں۔ میر واعظ عمر فاروق نے عالم اسلام میں امن و خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔ جمعتہ الوداع کے موقعہ پرجامع مسجد سرینگر میں اُس وقت رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے جب لوگ رو رو کر اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے۔اس دوران پتھر مسجد سرینگر ، خانقاہ معلی ،جناب صاحبؒ صورہ، دستگیر صاحبؒ خانیار، مخدوم صاحبؒ،ٹی آر سی مسجد، دستگیر صاحبؒ سرائے بالاسمیت تما م چھوٹی بڑی مساجد اور خانقاہوں میں جمعتہ الوداع کی تقریبات کا اہتما م ہوا جن میں لاکھوں لوگوں نے بہت ہی جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا۔ادھرچرار شریف سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حضرت شیخ العالمؒکی زیارت پر جمعتہ الوداع کے سلسلے میں نماز جمعہ کے موقعہ پر بہت بڑ ااجتماع منعقد ہوا جس میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔اس موقعہ پراسلام کی سربلندی اور کشمیر میں امن و آشتی کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔چرارشریف میں بھی وادی کے اطراف و اکناف سے آئے لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے زبردست ٹریفک جام رہا اور قریب تین کلومیٹر علاقہ میں گاڑیاں موجود رہیں۔ اس دوران بارہمولہ، کپوارہ، بڈگام، اننت ناگ ،کولگام،بانڈی پورہ،گاندربل ،شوپیاںاور پلوامہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان اضلاع میں بھی جمعتہ الوداع کی مقدس تقریبات عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئیں جس کے دوران مساجد ، خانقاہوںاور درگاہوں میں نماز جمعہ کے موقعہ پر روح پرور تقریبات کا اہتمام ہوا جن میں علماء اور ایمۂ حضرات نے جمعتہ الوداع کے فلسفے اور اس دن کی فضیلت کو اجاگر کیا اور وادی میں امن و آشتی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں۔اس موقعہ پر ائمہ مساجد نے لوگوں تلقین کی کہ عید کے موقعے پر وہ ان یتیموں اور بیوائوں کو نہ بھولیں جوکسی نہ کسی وجہ سے مشکلات کے شکار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ’’ ان یتیمو ں اور بیوائوں کا ہم پرحق ہے اور اس حق کی ادائیگی کا بہترین موقعہ عید ہے ‘‘۔ (سی این آئی )

 

تبصرے
Loading...