وزیر اعظم کے منظر نامے،کشمیر کو اور زیادہ تشویش ناک بنارہے ہیں: سوز

33

سرینگر: سابق مرکزی پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ’مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم مودی کو ایک چھوٹی سی بات سمجھ نہیں آتی ہے کہ اُن کی زور زبردستی کی پالیسی سے وہ کشمیر میں حالات کو اور زیادہ تشویش ناک بنا رہے ہیں۔ مودی حکومت کو یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کشمیر کی مزاحمتی قیادت کے لیڈران جیسے محمد یاسین ملک پر پی ایس اے کا نفاذ کر کے انہیں جموں منتقل کرنا اور میرواعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی کے بیٹے کو این آئی اے کے پاس پوچھ تاچھ کیلئے حاضر ہونے جیسے اقدامات سے کشمیر کی بے چینی اور زیادہ بڑ سکتی ہے ۔ ان حرکات سے یہاں کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں اور اس طرح کے روّیئے سے مودی حکومت کو کشمیر میں کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ میری نظر میں مرکز کو کشمیر میں زیادہ سے زیادہ فوجی طاقت کے استعمال اور مزاحمتی قیادت کو دھمکانے سے کچھ حاصل ہو نے والا نہیں ہے بلکہ اس سے یہاں کی تشویش ناک صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ مودی حکومت کی کشمیر کے تئیں اپنائی گئی پالیسیاں آنے والے وقت میں خود بخود غلط ثابت ہوں گی جس کا بخوبی مظاہرہ ریاستی گورنر نے مرکزکی طرف سے حکمنامے پر عمل پیرا ہونے میں کئی بار کیا ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مودی کے زمانے میں کشمیر کے حالات کافی حد تک بگڑ چکے ہیں ۔ کشمیر کے لوگ اس پر حیران ہیں کہ فورسز کی کافی تعداد وادی میں داخل ہو رہی ہے اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مودی طاقت کے استعمال کرنے کے علاوہ کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔‘‘

تبصرے
Loading...