وادی کے نوجوانون کھیل کود کی سرگرمیوں میں دکھارہے ہیں کافی دلچسپی

کھیل کے میدانوں کی ویرانی اور بنیادی ضروریات مئیسر نہ ہونے سے کھیل شائقین مایوس

0 23

سرینگر: وادی میں کرٹ اور دیگر کھیل کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی جانب سے رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے تاہم اکثر علاقوں میں نوجوانوں کو کھیل کے میدان اور دیگر بنیادی ضروریات مئیسر نہ ہونے کی وجہ سے کھیل شائقین مایوسی کے شکار ہوگئے ہیں جبکہ سرکار کی دعوے محض کاغذی گھوڑں تک ہی محدود ہیں ۔کاہچرائی ، قبرستانوں کی زمین اور دیگر سرکاری اراضی کو کھیل کیلئے استعمال کرنے پرنوجوان مجبور ہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کیمطابق وادی کشمیر میں گذشتہ تیس برسوں سے جاری کشیدی گی اور نامساعد حالات کی وجہ سے نوجوانوں میں زہنی تنائو بڑھ گیا ہے اور نوجوانوں کا بڑا حصہ منشیات کی طرف مائل ہورہا ہے اس صورتحال کے بیچ نوجوانوں کے ازہان سے نامساعد حالات کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے اور نوجوانوکو کھیل کود کی سرگرمیوں کی طرف مائل کرنے کیلئے اگرچہ سرکار بڑے بڑے دعوے کررہی ہیں تاہم سرکاری دعوے محض کاغذی گھوڑے ہی ثابت ہورہے ہیں اور زمینی سطح پر کھیل کود کے شوقین نوجوانون کو کھیل کود کے حوالے سے درکار بنیادی ضروریات حاصل نہیں ہورہی ہے جبکہ کرکٹ کے میدان نہ ہونے کی وجہ سے کھیل شائقین مایوسی کے شکار ہوچکے ہیں ۔نوجوان اپنی جیبوں سے روپے نکال کر کھیل کے میدانوں کو سنوارتے ہیں اور ان کی مرمت کرواتے ہیں ۔ اکثر علاقوں میں نوجوان اور بڑے عمر کے بچے علاقوں میں کھیل کے میدان نہ ہونے کی وجہ سے کاہچرائی، قربرستانوں اور دیگر سرکاری اراضی کو کھیل کود کی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ اور متعلقہ محکمہ کی جانب سے کھیل کے میدانوں کی دیواربندی، تار بندی اور اوبڑ کھابڑ زمین کو سنوارنے کیلئے کوئی اقدام نہ اُٹھانے کی وجہ سے نوجوان سخت مایوس ہوگئے ہیں اور اپنی جیبوں سے چندہ جمع کرکے ایسے میدانوں کو سنوارتے ہیں ۔ اگرچہ کئی مقامات پر کھیل کے میدان ہیں تاہم سرکار کی طرف سے ان کھیل کے میدانوں کی جانب عدم دلچسپی سے مذکورہ میدان کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں اور کئی جگہوں پر ان میدانوں کو کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کیلئے بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔

تبصرے
Loading...