وادی میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر،سیاحت سے جڑے افراد مایوسی کے شکار، متعلقہ محکمہ کی ناکامی کا نتیجہ

0 28

سرینگر: وادی کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں امسال کافی کمی دیکھنے کو ملی ہے جس کی وجہ سے ٹورازم سے وابستہ افراد سخت پریشان ہے جبکہ سیاحوں کی تعداد محض 15فیصدی ہے جبکہ یاتریوں کا فائدہ ٹورازم انڈسٹری کو نہ ہونے کے برابر ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں جو عالمی سطح پر ایک ٹورسٹ ڈسٹنیشن سے مشہور ہے رواں برس یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے شعبہ سیاحت سے وابستہ افراد سخت پریشانی کے عالم میں ہیں کیوں کہ کئی اداروں کے مالکان نے بینکوں سے موٹی موٹی قرضہ کی رقم لیکر اپنے کاروبار کو شروع کیا ہے لیکن سیاحتی سیزن میں سیاحوں کی تعداد کم ہونے کے نتیجے میں وہ اپنے اخراجات پورابھی نہیں کرپارہے ہیں ۔ اس حوالے سے شعبہ سے وابستہ کئی افراد نے کہا کہ کشمیر سیاحت کو ایک سازش کے تحت کمزور کیاجارہا ہے اور منفی پروپگنڈا نے کشمیر ٹورازم کو تباہ کردیا ہے ۔یاد رہے کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے بھی گذشتہ دنوں کہا تھا کہ نیشنل میڈیا کی جانب سے منفی پروپگنڈا کی وجہ سے کشمیری سیاحت کو دھکچا لگا ہے ۔ کشمیر کی سیاحت کو پھر سے زندہ کرنے کیلئے محکمہ سیاحت بھی خاموش دکھائی دے رہا ہے اور سیاحوں کو کشمیر کی جانب راغب کرنے کیلئے محکمہ کوئی موثر حکمت عملی اپنانے میں بھی ناکام ہوچکا ہے ۔ سیاحت سے جڑے افراد جن میں شکارے والے، ہاوس بوٹ اور ہوٹل مالکان ، پونے والے ، ریڈہ بان ، کشمیر آرٹ کے شوروم رکھنے والے، زعفران کا کاروبار اور دیگر ڈرائی فروٹ کا کاروبار کرنے والے بھی سیاحوں کی کم تعداد سے اس برس مایوس ہوچکے ہیں ۔ مذکورہ شعبہ جات سے جڑے افراد نے کہا ہے کہ اس وقت جو یاترا جاری ہے ۔اس سے سیاحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ان کا کوئی فائدہ یہاں کی ٹورزم انڈسٹری کو مل رہا ہے کیوں کہ مذکورہ یاتری اپنی گاڑیوں میں یہاں آتے ہیں اور مخصوص علاقوں میں جاتے ہیں جہاں ان کیلئے رہنے اور کھانے پینے کا مفت انتظام ہے۔یاتری یہاں اپنا مذہبی فریضہ انجام دینے کیلئے آتے ہیں جبکہ جوسیاح یہاں پر گھومنے پھرنے اور قدرتی نظاروں کا لطف اُٹھانے کیلئے آتے ہیں جو جگہ جگہ خریداری کرتے ہیں ہوٹلوں میں قیام و طعام کرتے ہیں جس سے یہاں پر ہزاروں کی تعداد میں افراد روز گار حاصل کرتے ہیں ۔ وادی کے مختلف سیاحتی مقامات پر کام کرنے والے دکانداروں ، ہوٹل مالکان اور دیگر افراد نے کہا کہ اس برس بیرون وادی سیاحوں کی تعداد محض پندرہ فیصدی رہی جبکہ یہاں آنے والے زیادہ تر سیلانی مقامی ہیں جو گرمی کے دنوں میں سیر سپاٹے پر نکلتے ہیں تاہم غیر مقامی سیلانی بہت ہی کم ہے ۔

تبصرے
Loading...