وادی میں خواتین کی شرح خواندگی مردوں کے مقابلے میں کافی کم

گریجویشن کے بعد محض 5فیصدی لڑکیاں ہی تعلیم آگے جاری رکھتی ہیں

0 23

سرینگر: وادی میں خواتین کی شرح خواندگی مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے ۔ پرائمری سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کی شرح فیصدی 60فیصدی ہے ۔ جبکہ مڈل سطح تک 40فیصدی اور ہائر سیکنڈری سطح تک محض 30فیصدی خواتین ہی پہنچ پاتی ہے ۔ اس کے برعکس ہائر سیکنڈری تک پہنچنے والے لڑکوں کی شرح فیصدی 78%ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت بھرمیں لڑکی بچائو لڑکی پڑائو مہم زوروشور سے جاری ہے وہیں پر وادی کشمیر میں آج بھی خواتین کی خواندگی کی شرح فیصدی مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے ۔ ماہرین تعلیم اور خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنی والی کئی خواتین نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں آج بھی لڑکیوں کو پڑھانے کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ والدین سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو سسرال جانا ہے جہاں انہیں ’کچن ‘رسوئی گھر ہی سنبھالنا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی مسائل بھی لڑکیوں کی خواندگی میں رُکاوٹ پیدا کررہی ہے ۔ ماہرین تعلیم کے مطابق وادی میں خواتین کی خواندگی کی شرح فیصدی مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے ۔ پرایمری سطح تک 60فیصدی لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہے جبکہ مڈل سطح تک 40فیصدی لڑکیاں ہی تعلیم حاصل کرکے تعلیم کو خیر باد کہتی ہے ۔ ہائر سکنڈری تک 30فیصدی لڑکیاں ہی پہنچ پاتی ہے ۔ حقوق خواتین اور خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی رضاکار خواتین نے کہا ہے کہ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد اکثر لڑکیاں گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہے جبکہ بارہویں کے بعد تعلیم چھوڑنے والی لڑکیوں کی شرح فیصدی 78فیصدی ہے ۔ اور آگے چل کر محض 5فیصدی لڑکیاں ہی گریجویشن کے بعد تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ اس کے برعکس ہائر سیکنڈری تک پہنچنے والے لڑکوں کی شرح فیصدی 78%ہے اور 70فیصدی لڑکے بارہویں کے بعد آگے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں اور آگے چل کر گریجویشن کے بعد 30%لڑکے مختلف یونیورسٹیوں میں داخل حاصل کرکے آگے تعلیم جاری رکھتے ہیں اور لڑکیوں میں یہ شرح صرف پانچ فیصدی ہوتی ہے ۔ماہرین کی مانیں تو وادی کشمیر میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں آج بھی لوگ عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ لڑکیوں کو اُتنی ہی تعلیم دینی چاہئے جتنی اُنہیں سسرال میں درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ متواسط طبقہ سے وابستہ لڑکیوں کو مالی دشواریوں کی وجہ سے بھی آدھے راستے میں تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑتی ہے ۔ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی خواتین نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں خواتین کی خواندگی شرح بڑھانے کیلئے بہت وقت درکار ہے اور اس کیلئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا ہے کہ بھارت بھر میں اگرچہ لڑکی بچائو لڑکی پڑائو مہم زوروں پر چل رہی ہے لیکن وادی کشمیر میں اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت دکھائی نہیں دی رہی ہے ۔ اس کیلئے والدین کو بھی کھلے ذہن سے کام لیکر اپنی بیٹیوں کو تعلیم کے نور سے منور کرنا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ جو پانچ فیصدی لڑکیاں گریجویشن کے بعد تعلیم جاری رکھتی ہیں ان کا تعلق آسودہ اور ماڈرن گھرانوں سے ہوتا ہے اور مستواسط طبقہ کی لڑکیاں گریجویشن کے بعد تعلیم حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتی ۔

تبصرے
Loading...