نوہٹہ اور دیگرملحقہ علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال ، لوگ گھروں میں محصور

ماہ رمضان میں لوگوں کو جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی

0 52

سرینگر:شہر خاص کے کئی علاقوں میں آج کرفیو جیسی بندشوں کے بیچ ماہ مبارک میں بھی جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھر سیل کردیا گیا جہاں کسی کو نماز جمعہ اداکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ادھر پُرانے شہر کے کئی علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شہری ہلاکتوں کے خلاف متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی کشمیر بند کال کے پیش نظر حکام نے شہر خاص میں بندشیں عائد کی ہیں جبکہ تواریخی جامع مسجد کو ایک بار پھر سیل کردیا گیا ہے ۔ شوپیاں ، پلوامہ اور پٹن میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف مزاحتمی قیادت نے جمعہ کو کشمیر بند کی کال دی تھی جس کے چلتے انتظامیہ نے شہر خاص میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کی ہے جس دوران شہر خاص کے نوہٹہ، گوجوارہ، بہوری کدل، راجوری ،کدل ، خانیار اور سعدہ کدل اور دیگر ملحقہ علاقوں میں لوگوں کی نقل و حمل محدود کردی اور لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی گئی ۔ اس دوران نوہٹہ میں سخت بندشیں عائد رہنے کے ساتھ ہی تواریخی جامع مسجد کو آج ایک بار پھر سیل کردیا گیا اور کسی بھی شہری کو جامع مسجد کی طرف جانی کی اجاز ت نہیں دی گئی جبکہ مسجدشریف کے اہم داخلی دروازوں پر فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور بکتر بند گاڑیاں گیٹ کے سامنے کھڑی کرکے رکھ دی گئی تھیں ۔ ادھر پُرانے شہر کے کئی علاقوں میں فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہوئی جبکہ فورسز و پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے درجنوں اشک آور گیس کے گولے داغے ۔ ادھر عوامی حلقوں نے جامع مسجد کو پھر سیل کرنے اور مسجد شریف میں نماز جمعہ اداکرنے پر قدغن لگانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں جوں ہی حالات خراب ہوجاتے ہیں تو اس کا نزلہ شہر خاص کے عوام اور جامع مسجد سرینگر پر اُتارا جاتا ہے اور لوگوں کو دینی فریضہ انجام دینے سے روکا جاتا ہے ۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...