میرٹھ: پولیس نے 40 بیقصور مسلم نوجوانوں کو لیا ، مسلم طبقے میں بے چینی اور بے اطمینانی نظر آ رہی ہے

0 20

سرینگر: ہجومی تشدد کا شکار ہوئے تبریز انصاری کے لئے انصاف کے مطالبے اور اس طرح کی بڑھتی واردات کے خلاف 30 جون کو میرٹھ کے فیض عام انٹر کالج میں ایک احتجاجی اور دعائیہ جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی لیکن جلسے کے بعد واپس لوٹ رہے لوگوں میں سے کچھ افراد کی نعرے بازی سے ناراض ہوکر پولیس نے بھیڑ پر لاٹھی چارج کیا اور اس کے بعد پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا حوالہ دیکر مسلم نوجوانوں کو حراست میں لینا شروع کیا جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جو موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کسی بھی طرح کے تشدد اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک شہری کا جمہوری اور بنیادی حق ہے لیکن اس طرح کے پرامن احتجاج کو بھی میرٹھ کی پولیس اور ضلع انتظامیہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی مان کر کارروائی انجام دے رہی ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قانون توڑنے کے الزام میں مخبروں کی نشاندہی پر ایسے افراد کی گرفتاری بھی کی جا رہی ہے جو موقع پرموجود ہی نہیں تھے۔ ان گرفتاریوں کے خلاف مسلم طبقے میں نہ صرف ناراضگی بڑھ رہی ہے بلکہ مسلم سماجی اور ملّی افراد بھی اب غیر منصفانہ کارروائی کے خلاف احتجاج کو لیکرلائحہ عمل طے کررہے ہیں۔ہجومی تشدد کا شکار ہوئے تبریز انصاری کے لئے انصاف کے مطالبے اور اس طرح کی بڑھتی واردات کے خلاف 30 جون کو میرٹھ کے فیض عام انٹر کالج میں ایک احتجاجی اور دعائیہ جلسے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی لیکن جلسے کے بعد واپس لوٹ رہے لوگوں میں سے کچھ افراد کی نعرے بازی سے ناراض ہوکر پولیس نے بھیڑ پر لاٹھی چارج کیا اور اس کے بعد پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا حوالہ دیکر مسلم نوجوانوں کو حراست میں لینا شروع کیا جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جو موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ پولیس نے اس معاملے میں یوواسیوا سمیتی کے ذمہ داران کے خلاف معاملہ درج کرنے کے ساتھ ہی سیکڑوں نامعلوم افراد کے خلاف بھی معاملہ درج کرکے اب تک 40 سے زائد مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔ بیقصور نوجوانوں کی گرفتاری سے مسلم طبقے میں خوف اور غصّے کا ماحول نظرآرہا ہے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور ہنگامہ کرنے کے الزام میں حراست میں لئے گئے کئی بے قصور مسلم نوجوان اپنی بیگناہی کا ثبوت پیش کرنے کے بعد چھوڑ دیے گیے۔ مسلم نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائی کو لیکر مسلم طبقے میں بیچینی اور بے اطمینانی نظر آ رہی ہے۔سماجی اور ملّی تنظیموں کے ذمہ داران اب اس معاملے کو لیکر سخت ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ وہیں بیقصور مسلم نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائی کو لیکر ضلع انتظامیہ کا رویہ بھی بیحد غیر ذمہ دارانہ نظر آ رہا ہے۔بغیر ثبوت نوجوانوں کو حراست میں لینے والی پولیس لوگوں سے بیگناہی کا ثبوت مانگ رہی ہے۔ مظاہرین پر لگاے گئے الزامات کا خود ثبوت پیش نہ کر پانے والی میرٹھ پولیس کارروائی کو لیکر اب خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔

تبصرے
Loading...