مودی سرکار کے نے بجٹ نے زمینی سطح پردکھایا رنگ،ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بھاری اضافہ

0 19

سرینگر: بھاجپا حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کا زمینی سطح پر اطلاق ہونے کے محض 18گھنٹوں بعد ہی ملک بھر میں پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ۔پارلیمنٹ میں مودی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ایندھن پر 1 فیصدی سیس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھاجپا حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کا زمینی سطح پر اطلاق ہونے کے محض 18گھنٹوں بعد ہی ملک بھر میں پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ۔پارلیمنٹ میں مودی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ایندھن پر 1 فیصدی سیس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد آج صبح سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیاہے۔دہلی میں 6 جولائی کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 2.45 روپے اور 2.36 روپے اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح پٹرول کی قیمت اب 72.96 روپے فی لیٹراور ڈیزل کی قیمت 66.69 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔وہیں ممبئی میں ایک لیٹرپٹرول 78.57روپئے اورڈیزل 69.09 روپئے میں فروخت ہورہاہے۔ اسی طرح چنئی میں پٹرول 75.46 روپئے اورڈیزل 70.48 روپئے میں دستیاب ہے۔ پٹرول اورڈیزل میں اضافہ کے بعد اب امکان ہے ضروری اشیاء کی قمیتوں میں زبردست اضافہ ہوگا۔یادررہے کہ کل پارلیمنٹ میں مودی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ایندھن پر 1 فیصدی سیس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے بعد آج صبح سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیاہے۔حالانکہ بجٹ میں جن ایشاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اس کیلئے ابھی سرکاری حکمنامہ جاری نہیں ہوا تاہم زمینی سطح پر اس کا اطلاق ہوگیا ۔ملک کی تیل مارکیٹنگ کمپنیاں روزانہ تیل کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ نئی شرحیں صبح 6 بجے سے نافذ ہوتی ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ قیمتوں کو طے کرنے کے لئے 15 دن کی اوسط قیمت کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ کس طرح طے ہوتے ہیں پٹرول-ڈیزل کے دام- جس قیمت پر ہم پٹرول پمپ سے پٹرول خریدتے ہیں اس کا تقریباً 48 فیصدی بیس پرائس یعنی بنیادی قیمت ہوتا ہے۔ اس کے بعد بنیادی قیمت پر تقریبا 35 فیصدی ایکسائز ڈیوٹی، 15 فیصدی سیلس ٹیکس اور دو فیصدی کسٹم ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔

تبصرے
Loading...