منفی پروپیگنڈا سے کشمیر کا سیاحتی شعبہ بری طرح متاث

ٹورازم سیکٹر سے جڑے افراد متحد ہوکر کشمیر کے بارے میں غلط تاثر کا توڑ کریں/فاروق عبداللہ

0 91

سرینگ// پُرآشوب دور میں ریاست کا سیاحتی شعبہ سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے کہ بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ کسی حد تک میڈیا نے بھی کشمیر کے بارے میں منفی رپورٹنگ کرکے باہری دنیا کے سامنے غلط تاثر پیش کیا۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق اپنی رہائش گاہ پر ٹورازم سیکٹر سے وابستہ نامور شخصیات کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ بدقسمتی سے کشمیر کے بارے میں منفی پروپیگنڈا آج بھی جاری ہے ۔حالات کی خرابی کی وجہ سے وادی کو مشکوک مقام قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کشمیر میں کبھی بھی کسی بھی سیاح کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے اور یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ سیاحوں کی بے لوث مہمان نوازی کی ہے اور مشکل ادوار میں بھی لوگوں نے سیاحوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی ۔ کشمیر میں جس خوش اخلاقی اور خوش اسلوبی کیساتھ سیاحوں کی مہمان نوازی کی جاتی ہے ایسی مثال دنیا کے کسی بھی کونے میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ زراعت و باغبانی، ہینڈی کرافٹس اور سرکار کے بعد سیاحت ایسا چوتھا شعبہ ہے جس کیساتھ سب سے زیادہ لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ لیکن ٹی آر پی کی بوکھی قومی ٹی وی چینلوں نے اپنے حقیر مفادات کیلئے کشمیر کو استعمال کیا اور اس کی غلط تصویر باہری دنیا کے سامنے رکھی۔بیشتر چینلیں کشمیر کو بدنام کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور کشمیریوں کو نشانہ بنانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑتے۔ اس رجحان کی وجہ سے وجہ سے وادی کے عوام خصوصاً نوجوانوں میں ناراضگی اور احساس بیگانگی حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے شعبہ سیاحت سے جڑے افراد پر زور دیا کہ جب تک ریاست میں عوامی حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا تب تک آپ کو کشمیر کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کا توڑ کرنے کا بیڑا خود اُٹھانا ہوگا کیونکہ گورنر انتظامیہ اس معاملے میں خوب غفلت میں ہے اور ریاست کا سیاحتی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران ریاست میں سیاحتی شعبے کو دوام بخشنے کیلئے بہت کام کیا گیا اور اس محنت کی بدولت یہاں ریکارڈ توڑ سیاحوں کی آمد ہوئی۔لیکن 2015کے بعد پی ڈی پی اور بھاجپا حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہ شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ گذشتہ4برسوں میں یہ شعبہ بھی زوال پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت سے وابستہ شکارے والے، ہاوس بوٹ والے ، ہینڈی کرافٹس ،پیپر ماشی، قالین بافی، شال دوشالے، ووڈ کارونگ، ٹیکسی ڈائیور ، ہوٹل مالکان، دکاندار حضرات، کاریگر حضرات لاکھوں کی تعداد میں اِس صنعت سے وابستہ ہیں۔ لیکن اس وقت اس شعبہ کی بدحالی سے یہ طبقہ بدترین مالی بحران سے دوچار ہوگئے ہیں۔ سیاحت سے جڑے افراد کو سیاحتی شعبہ کو دوام بخشنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس اہم شعبہ کی حفاطت کریں، کیونکہ یہ شعبہ ہماری اقتصادیات میں ریڈ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ (سی این آئی )

تبصرے
Loading...