مغل روڑ کے ذریعے کشمیر سے جموں جانے والی گاڑیوں سے بھاری انٹری فیس وصول

ٹرانسپورٹروں نے کیا سخت برہمی کااظہار ، متعلقہ ایس ایس پی اور آئی جی ٹریفک سے مداخلت کی اپیل

0 21

سرینگر// مغل روڑ کے ذریعے کشمیر سے جموں اور راجوری جانے والی مسافر اور مال بردار گاڑیوں سے تھنہ منڈی کے مقام پر انٹری کے نام پر ہزاروں روپے اینٹھ لئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مغل روڑ سے جموں اور راجوری جانے والے ٹرانسپورٹر سخت پریشان ہے جنہوںنے اس معاملے کی چھان بین کرنے اور قصوروار ٹریفک عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایک طرف سرینگر جموں شاہراہ پر ٹرانسپورٹروںپر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا ہے دوسری طرف مغل روڑ پر کشمیر سے جموں اور راجوری جانے والی گاڑیوں سے انٹری کے نام پر ہزاروں روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق تھنہ منڈی راجوری کے مقام پر کشمیر سے آنے والی مسافر اور مال برداری گاڑیوں کو ٹریفک عملہ کے اے ایس آئی ذاکر حسین اور اس کا ساتھی مشتاق احمد کشمیر سے جانے والی مسافر گاڑیوں سے 500روپے انٹری کے نام پر وصول کرتے ہیں جبکہ مقامی گاڑیوں سے چار سو روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکار ڈرائیورں سے کہتے ہیں کہ اگر انٹری فیس نہیں دو گے تو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیوں کہ اس فیس کا حصہ اُوپر کے افسران تک پہنچانا ہوتا ہے ۔ اس صورتحال پر روٹ پر چلنے والے ٹرانسپورٹروں نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ جگہ پر تعینات عملہ سے اس حوالے سے باز پُرس کی جائے اور معاملے کی تحقیقات عمل میں لائی جائے کیوں کہ یہ لوگ بغیر کسی رسید کے ہی انٹری فیس وصول کرتے ہیں اور محکمہ کے اعلیٰ افسران کے نام پر ڈرائیوروں سے روپے اینٹھ لیتے ہیں ۔ ٹرانسپورٹروںنے متعلقہ ایس ایس پی ٹریفک اور آئی جی ٹریفک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرکے قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں ۔ (سی این آئی)

تبصرے
Loading...