مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا انتقال،کشمیر یونیورسٹی میں غائبانہ نماز جنازہ ادا ، خراج پیش

0 48

سرینگر: مصر کے سابق صدرمحمد مرسی کی عدالت میں پیشی کے بعد اچانک غش طاری سے انتقال کے بعد منگل کو کشمیر یونیورسٹی میں طلبا او ر اسٹاف ممبران نے ان کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جس دوران انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے مصر کے سابق صدرمحمد مرسی کی عدالت میں پیشی کے بعد اچانک غش طاری سے انتقال کر گئے ۔ مصر کے سابق صدر کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی کے طلبا اور فکلٹی ممبران نے منگل کے روز سابق صدر مصر کے حق میں غائبانہ نما ز جنازہ ادا کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم سینکڑوں کی تعداد میں طلبا اور فیکلٹی ممبران نے بدھ کو نماز ظہر کے بعد یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کے باہر جمع ہو کر مصر کے سابق صدرمحمد مرسی کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جس دوران انہوں نے مہلوک کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2012 میں محمد مرسی کو اقتدار ملا تھا۔ اس کے بعد جولائی 2013 میں فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا اور ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔اس طرح محمد مرسی اپنے چارسالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پربھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس کے بعد حال ہی میں امریکا نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا ہے۔محمد مرسی مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے جمہوری صدر بھی تھے جس کے بعد وہ 67 سال کی عمر میں فوت ہوگئے ہیں۔ عدالت میں پیشی پر انہوں نے جج سے 20 منٹ تک بات کی اور وہ بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے کہ اسی دوران وہ بے ہوش ہوکر گر پڑے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ہسپتال میں ان کی جان بچانے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جان نہیں بچائی جاسکی۔

تبصرے
Loading...