مزدور طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے قائم محکمہ لیبر کمیشن اپنے فرائض نبھانے میں ناکام

67

مستحق افرار محکمہ میں اندراج کرانے کیلئے ایجنٹوں کا سہارا لینے پر مجبور

سرینگر: وادی میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے قائم لیبر کمیشن مزدوروں ، کاری گروں اور یومیہ اْجرت پر کام کرنے والے مستحق غریبوں کی معاونت کرنے میں ناکام ہوچکا ہے جبکہ محکمہ میں اندراج کیلئے مزدوروں کو ایجنٹوں کے ذریعے دو دو ہاتھوں لوٹا جارہا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مزدوروں ، کاریگروں ، صنعت کاروں ، اور یومیہ اْجرت پر کام کرنے والے افراد کے علاوہ دکانوں میں بطور سیلز مین کام کرنے والے افراد، نجی دفتروں میں کام کرنے والے لوگوں ، ریڑہ بانوں ، آٹو رکھشا چلانے والوں ، ڈرائیوروں و دیگر سماج کے غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے محکمہ لیبر کمیشن کا قیام عمل میں اس لئے لایا گیا ہے تاکہ وہ مستحق افراد کو بیماری کے وقت، بچوں کی شادی بیاہ کے وقت یا کسی اہم مجبوری کے وقت کچھ مالی معاونت کرے تاکہ ان کو سماج میں زندہ رہنے کا برابر حق حاصل ہو۔ تاہم وادی میں مزدوروں، کارخانوں میں کام کرنے والے کاریگروں، صنعت کاروں ، کاری گروں ، یومیہ اْجرت پر کام کرنے والے ترکھانوں ، مستریوں ، آٹو رکھشا چلانے والوں ، مالکان کی گاڑیاں چلانے والے ڈرائیوروں ، ریڑہ بانوں و دیگر افراد کی مدد کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے۔ کیوں کہ مذکورہ طبقہ سے وابستہ مستحق افراد تک محکمہ جانکاری پہنچانے میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہا ہے۔ اور اس کی جانکاری محکمہ نے اپنے ہی ملازمین تک محدود رکھی ہے۔جس کی وجہ سے ایسے مستحق افراد کیلئے کوئی مدد نہیں پہنچ پارہی ہے۔ محکمہ کی جانب سے مستحق افراد کی بیماری ، بچوں کی شادی بیاہ کے مواقوں اور دیگر اہم ضرورتوں کے وقت انہیں مالی معاونت فراہم کرنا ان کی ذمہ داروں میں شامل ہے تاکہ مذکورہ طبقہ سے وابستہ افراد سماج میں دیگر طبقہ جات کے ہمراہ اپنی زندگی گزارسکے۔سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ محکمہ کی جانب سے ضلعی ہیڈکوارٹروں پر قائم دفتروں میں اگرچہ کوئی مزدور مجبوری کی صورت میں پہنچ بھی جاتا ہے تاہم انہیں کاغذی طوالت میں اس طرح اْلجھایا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ دفتر ھٰذا میں جانے کا نام نہیں لیتا۔ اس کے برعکس مزدور افراد ایجنٹوں کے پاس جاکر ان سے کام کرانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایجنٹوں اور ضلعی دفتروں میں تعینات ملازمین کے مابین گہرا ساز باز ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایجنٹ ملازمین کو مزدوروں سے وصول کئے گئے پیسوں میں سے کمیشن ادا کرتا ہے۔ ادھر اسسٹنٹ لیبر کمشنر اننت ناگ اور اسسٹنٹ لیبر کمشنر کولگام کے حوالے سے بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں پر مزدوروں کی کوئی معاونت نہیں کی جارہی ہے بلکہ مستحق افراد کو بلا وجہ دفتری طوالت میں اْلجھایا رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایجنٹوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں علاقہ کنڈ سے وابستہ تقریباً60سے زائد افراد پر وفد نے نائب تحصیلدار سے ملاقات کرکے اس معاملے پر بات کو تو انہوں نے کہا کہ مزدور افراد ایجنٹوں کو بذات خود رقومات دیتے ہیں اس میں محکمہ کا کوئی رول نہیں ہے تاہم انہوںنے یہ نہیں کہا کہ محکمہ کی جانب سے کاغذی اور دفتری طوالت میں اْلجھائے رکھنے کی وجہ سے ہی مزدور ایجنٹوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور محکمہ لیبر کمیشن میں اندراج کرانے اور وہاں سے کارڈ حاصل کرنے کے عوض انہیں ہزاروں روپے بطور کمیشن اداکرنے پڑتے ہیں.

تبصرے
Loading...