مرکزی وزیر کا اعلان،ہندوستان نے روکا پاکستان جانے والی تین ندیوں کا پانی

43

پاکستان نے بھارت کے اس اقدام کو سندھ طاس آبی معاہدے کی خلاف ورزی قراردیا

سرینگر/11مارچ: مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والی تین ندیوں کا پانی ہندوستان نے روک دیا ہے۔مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والی تین ندیوں کا پانی ہندوستان نے روک دیا ہے۔ ارجن میگھوال اتوار کے روز بیکانیر پہنچے تھے۔ اس دوران مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے صحافیوں سے کہا کہ پاکستان میں بہنے والی مشرقی دریاؤں کے 0.53 ملین ایکڑپانی کو روک دیا گیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والی تین ندیوں کا پانی ہندوستان نے روک دیا ہے۔مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والی تین ندیوں کا پانی ہندوستان نے روک دیا ہے۔ ارجن میگھوال اتوار کے روز بیکانیر پہنچے تھے۔ اس دوران مرکزی وزیر ارجن میگھوال نے صحافیوں سے کہا کہ پاکستان میں بہنے والی مشرقی دریاؤں کے 0.53 ملین ایکڑپانی کو روک دیا گیا ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بارے میں مزید کہا کہ پاکستان کی جانب جانے والی تین ندیوں کے پانی کو جمع کیا گیا ہے۔ جب بھی راجستھان یا پنجاب کو اس کی ضرورت ہوگی، اس پانی کا استعمال پینے اور آبپاشی کے لئے کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے 14 فروری کو پلومہ حملہ کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حملہ میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر پاکستان نے اس معاملے کو سندھ طاس آبی معاہدے کے خلاف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر آبی دہشت گردی ہے ۔ پاکستان روزنامہ میں شائع ایک خبر میں پاکستان نے ہندوستان کی طرف سے پانی روکنے کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے ۔ مشتہر خبر میں کہا گیا کہ’’بھارت نے پاکستان کو اضافی پانی کی فراہمی روک کرپاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا محاذ کھول دیا۔ بھارت کے وزیرمملکت برائے آبی وسائل ارجن میگوال کا کہنا ہے کہ بھارت نے مشرقی دریاؤں دریائے ستلج، بیاس اورراوی سے اب تک پانچ لاکھ تیس ہزار ایکڑ فٹ پانی پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ اس پانی کوذخیرہ کیا جائے گا اورضرورت پڑنے پر راجستھان اورپنجاب میں پینے اور زراعت کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ تینوں دریا سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت کے ہیں، ہم نے ایسا کرکے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی۔دوسری جانب مودی سرکارنے پلوامہ حملے کے رد عمل میں سندھ طاس معاہدے پربات چیت کے لئے بھارتی وفد کا مجوزہ دورہ پاکستان بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ 2018 میں پاک بھارت انڈس واٹر کمیشن کے اجلاس میں دونوں ملکوں نے اس امر پراتفاق کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ دوطرفہ دورے جاری رہیں گے۔ پاکستان کے وفد نے شیڈول کے مطابق اکتوبر دوہزار اٹھارہ میں بھارت کا دورہ کرنا تھا لیکن کشمیرمیں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...