مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی نئی تعلیمی پالیسی پر مسلم طبقے کو اعتراض

مسودے میں کچھ باتیں ملک کے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی سطح کا بنا رہی ہیں۔ مرکزی وزارت

0 19

سرینگر:مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ملک میں نئی تعلیمی پالیسی کو لیکر تنازعہ میں گھری ہوئی ہے۔وزارت نے تیس جولائی تک تجویزات اوراعتراضات طلب کئے ہیں۔لیکن مسلم تنظیموں نے نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے پر ہی سوال اٹھا دیئے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ملک میں نئی تعلیمی پالیسی کو لیکر تنازعہ میں گھری ہوئی ہے۔وزارت نے تیس جولائی تک تجویزات اوراعتراضات طلب کئے ہیں۔لیکن مسلم تنظیموں نے نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے پر ہی سوال اٹھا دیئے ہیں۔مثلاً مذہبی اقلیت کی تعلیم کو لیکر صرف دوپیج ہیں۔ لیکن ان دوپنّوں میں نہ تو آرٹیکل29اور30نہیں ہے۔اس میں۔مدارس کی تعلیم میں سدھارکولیکر کوئی بات نہیں رکھی گئی۔ کمال فاروقی نے اس ضمن میں وزارت برائے فروغ انسانی وسائل اور قومی اقلیتی کمیشن کو خط لکھا ہے۔اْن کے مطابق یہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے اس لئے جلد بازی نہیں کی جانی چاہیئے۔کمال فاروی نے اے ایم یو اور جامعیہ ملیہ اسلامیہ جیسے اقلیتی اداروں کی پہچان کو نئی تعلیمی پالیسی سے شناخت کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے میں اسکل ڈیولپمنٹ اورروزگارپر زوردیاگیا ہے۔ وکیشنل کورسیز زیادہ شروع کئے جائیں گے۔ تعلیمی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیلئے نئی اتھارٹی بنائی جائے گی۔ گریجویشن کو 3سال سے بڑھا کر4سال کیا جائیگا۔ لیکن نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے میں مدارس کو عصری تعلیم سے جوڑنے کی تجویز نہیں ہے۔صرف جدید تعلیم سے جوڑنے کی بات کہی گئی ہے۔جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن بھی نئی تعلیمی پالیسی پرایک رپورٹ تیار کررہی ہے۔ایسوسی ایشن نے بھی مسودے پر اعتراض جتایا ہے۔نئی تعلیمی پالیسی پر باریک بینی سے نظر رکھنے والی اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے مطابق نئی تعلیمی پالیسی کے مسودے میں کچھ باتیں ملک کے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی سطح کا بنا رہی ہیں۔لیکن اس مسودے میں مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ میں مضبوط بنانے کیلئے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی کیلئے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے تجویزات اور اعتراضات طلب کئے ہیں۔۔اس کی آخری تاریخ تیس جون سے بڑھا کرتیس جولائی کردی گئی ہے

تبصرے
Loading...