مرکزِعالمی اردو مجلس نئی دہلی کے زیر اہتمام جشن عید اورمحفل مشاعرہ کا انعقاد ،وادی کے نامور ادیبوں اور شعراء نے شرکت کی

0 50

سرینگر /9جون / کے پی ایس

عالمی سطح پر اردو زبان وادب کو فروغ دینے کیلئے قائم مرکزِعالمی اردو مجلس نئی دہلی کے جموں وکشمیر یونٹ کے زیر اہتمام محبوب آباد راولپورہ سرینگر میں جشن عید اور محفل مشاعر ہ کا جموں وکشمیر ثقافتی مرکز بڈگام کے باہمی اشتراک سے انعقاد کیا گیا ۔اس تقریب میں کلچر اینڈ سائنس فائونڈیشن کا تعاون بھی حاصل تھا ۔ اس تقریب کی صدارت معروف پروڈوسر ڈاکٹرنذیر احمد نے کی ۔ثقافتی مرکز کے صدر مبارک احمد مبارک مہمان خصوصی،تعمیل ارشاد کے مدیر ناظم نذیر مہمان ذی وقار اور معروف ادیب و ریاض دان ،فائونڈیشن کے صدر شہباز ہاکباری اعزازی مہمان کی حیثیت سے ایوان صدارت میں موجود تھے ۔تقریب کا آغا ز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔اس کے بعد نعت پیش کرنے کی سعادت کمسن بچی عائشہ تنویر خان نے حاصل کی۔مرکز عالمی اردو مجلس کے صدر ڈاکٹر حنیف ترین اور نائب صدر بشیر چراغ نے میزبانی کے فرائض انجام دئے اور مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا ۔اس کے علاوہ مرکز عالمی اردو مجلس کے بنیادی اغراض و مقاصد اور جشن عید کے حوالے سے مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو مجلس عالمی سطح پر اردو زبان کو فروغ دینے اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی سعی کرتی رہے گی اور واضح کیا کہ روزنامہ تعمیل ارشاد زبان وادب کو فروغ دینے میں جو رول نبھاتا وہ قابل تحسین ہے ۔محفل مشاعرہ میں وادی کے اردو ،کشمیری اور فارسی کے نامور شعراء اور ادب نواز شخصیات نے شرکت کی ۔ مشاعرہ میں ڈاکٹر حنیف ترین ،بشیر چراغ اور ڈاکٹر شبنم رفیقی نے مرحلہ وار نظامت کے فرائض انجام دئے ۔مشاعرہ میں جن شعراء نے اردو ،کشمیری اور فارسی میں جن شعراء نے اپنی تخلیقات پیش کرکے حاضرین مجلس کو محظوظ کیا ۔ان میں مقبول فیروزی ،ساگر سرفراز ،پرویز مانوس ،مجید مسرور ،نورالدین ہوش ،ڈاکٹر ہلال ،شوکت تلگامی ،امتیاز بزاز ،عادل اشرف ،ڈاکٹر علی محمد نشتر ،غلام محی الدین المعروف مھدہ میر، خورشید قریشی ،پروفیسر پیرزادہ ریاض ،سہیل سالم ،عاشق ادیب ،فاروق عطیب ،عارض ارشاد ،محبوب نوگامی ،مسرت حمید وغیرہ شامل تھے ان کے علاوہ بُک پرموشن ٹرسٹ اور اردو کونسل کے نمائندہ خاص شبیر ماٹجی اور دیگر دانشور وں نے شرکت کی ۔گلستان چینل کے لٹرری کاڈی نیٹر مجید مسرور کے ادبی خدمات کی سراہنا کی گئی ۔
مشاعرہ کے اختتام پر ناظم نذیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاعر سماج کاایک عظیم انسان ہوتا ہے یہ لوگوں کے احساسات وجذبات کو ایک سانچے میں ڈال کر طرہ دیتا ہے اورحالات وواقعات کے حوالے سے مختصر الفاظ میں تاریخ رقم کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ س عام لوگ آپ جیسے عظیم انسانوں کو ہی پڑھتے ہیں اس لئے شعراء حضرات کو اپنی عظمت کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور اپنی تخلیقات میں غلط اور صحیح ،حق اور ناحق کی تخصیص کرنی چاہئے تاکہ آپ کے بعد بھی لوگ آپ کو ڈھونڈنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔انہوں نے عالمی اردو مجلس کے منتظمین کو مبارکباد دی جو اردو زبان کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہیں انہوں نے کہا کہ یہ رابطہ کی زبان ہے اور جموں وکشمیر میں اردو کونسل اس لئے قابل قدر کام انجام دے رہا ہے ۔انہوں نے ثقافتی مرکز بڈگام کے کارکناں کو خراج تحسین پیش کیا کہ زمینی سطح پر ان کاکام واقعی دوسری ادبی تنظیموں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کے بعد شہباز ہاکباری نے منظوم کلام پیش کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو مجلس کے زعماء کو مبارکباد دی اور اس طرح کے پروگرام منعقد کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی ۔انہوں نے ادباء وشعراء سے گذارش کی کہ وہ ہر حال میں اپنی عظمت کو بنائے رکھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تاکہ ہماری نئی نسل ان کے ادب و ثقافت سے مستفید ہوسکیں ۔ اس کے بعد مبارک احمد نے منظوم کلام پیش کرنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو مجلس کے زعماء بالخصوص ڈاکٹر حنیف ترین اوربشیر چراغ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس جشن کا انعقاد کیا اور ہمیں بھی خدمت کا موقعہ فراہم کیا ۔اس دوران ڈاکٹر شبنم رفیقی نے کہا کہ ثقافتی مرکز بڈگام دبے اور چھپے ہوئے ذہنوں کو اجاگر کرنے میں رول ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ یہ تنظیم ’’گلالہ‘‘ پروگرام میں کلام شآعرکو بھی شامل رکھاجائے گا ۔مجید مسرور نے ضمناً ادیبانہ انداز میںکئی باتوں کا ذکر کیا ۔ آخر پر اپنے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹرنذیر احمد نے وادی کے ادبی،سماجی تنظیموں کی جانب سے نظر اندازکرنے کی ایک کہانی بیان کی ۔انہوں نے شعراء حضرات سے مخاطب ہوکر ان سے استدعا کی کہ وہ موجودہ حالات کی جانب اپنی نظریں مرکوز کرکے اپنی شاعری میں حسب حال بیان کریں تاکہ کل آپ ہماری نئی پود آ پ اپنا محسن تصور کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شعراء میں صلاحیتیں موجود ہیں اور ان صلاحیتوں کو بہتر اور معیاری انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مجلس کے زعماء بالخصوص ڈاکٹر حنیف ترین اور بشیر چراغ کو خراج تحسین پیش کیا اور اردو کی آبیاری کرنے پر ان کو مبارکباد دی ۔

تبصرے
Loading...