محبوبہ مفتی کی مہربانی کا خمیازہ ریاست کا ہر ایک طبقہ بھگت رہا ہے:ساگر

45

ریاست سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشارکی نذر

سرینگر: ریاست اس وقت سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشارکی نذر ہوگئی ہے، راج بھون آر ایس ایس اور بھاجپا کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں مصروف ہے جبکہ زمینی سطح پر عوام کی راحت رسانی کیلئے کچھ نہیں ہورہا ہے، لوگ روز مرہ کی ضروریاتِ زندگی کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ بے چینی اور غیر یقینیت کا ماحول اقتصادی بدحالی کو مزید گہرا کررہا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے جنوبی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور معزز شہریوں کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں پارٹی کی سٹیٹ سکریٹریز پیرزادہ احمد شاہ اور سکینہ ایتو بھی موجود تھے۔ وفد نے جنرل سکریٹری کو جنوبی کشمیر کی مجموعی حالات سے آگاہ کرنے کے علاوہ پارٹی سرگرمیوں اور پارٹی پروگراموں کی جانکاری بھی دی۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی کی مہربانیوں کا خمیازہ آج ریاست کا ہر ایک طبقہ بھگت رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر پابندی ہو یا مذہبی رہنماؤں کی تنگ طلبی، ہر ایک چیز کیلئے محبوبہ مفتی کی حکومت نے راہیں کھول کر دیں۔ یہاں تک کہ قلم دوات جماعت نے ہی راج بھون کو ریاست میں ایسے فیصلے لینے کا موقع فراہم کیا جس کا منڈیٹ اسے حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر محبوبہ مفتی نے اُسی وقت گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست کی ہوتی جب بھاجپا نے اُن سے حمایت واپس لی تو آج یہاں مرکز کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ پی ڈی پی والے آج جماعت اسلامی پر پابندی اور دیگر معاملات پر احتجاج کررہے تھے جبکہ اس سب کیلئے وہ براہ راست خود ذمہ دار ہیں ۔ انہوں کہا کہ پی ڈی پی کی نااہل حکومت کا خمیازہ آج بھی عوام کو زمینی سطح پر اُٹھانا پڑ رہا ہے، ریاست کے موجودہ حالات دگرگوں ہے، امن و قانون اور سیکورٹی کی صورتحال بدترین ہے جبکہ انتظامیہ بھی بدنظمی کا شکار ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی والوں نے ساڑھے3سال حکومت میں رہ کر خزانہ عامرہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا، مرکزی سکیموں کے تحت فراہم کی گئی رقومات کا گھوٹالا کیا گیا، چور دروازے سے بھرتیاں عمل میں لاکر مستحق ، باصلاحیت اور قابل نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد میں نے لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹھ میں اس قدر مصروف رہے کہ ریاست کی تعمیر و ترقی کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی گئی۔جنرل سکریٹری نے کہا کہ سابق پی ڈی پی حکومت نے ساڑھے 3سال میں ایک بھی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں کیا ، حد تو یہ ہے کہ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت میں بجلی کی پیداوار میں ایک میگاواٹ کا اضافہ نہیں ہوا اور نہ اس جانب کوئی کام کیا گیا۔ پی ڈی پی والوں نے کورپشن اور لوٹ کھسوٹ کے علاوہ ساڑھے 3سال کے دوران آر ایس ایس کے احکامات کے عین مطابق کشمیر مخالف کام کئے۔ پی ڈی پی نے جموں وکشمیر کے پرچم کی بے حرمتی کرائی اور اس کا تقدس پامال کروایا،جموں میں ایک منظم سازش کے تحت جنگلاتی اراضی کے نام پر مسلمانوں کی بستیاں خالی کروائیں گئیں،آر ایس ایس کو ہتھیار بند ریلیاں نکالنے کی اجازت دی،GST، فوڈ سیکورٹی اور سرفیسی ایکٹ سمیت آدھ درجن مرکزی قوانین کو ریاست پر لاگو کیا،دفعہ370، سٹیٹ سبجیکٹ قانون، دفعہ35A، اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے سازشیں رچانے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور سب سے بڑ کر ریاست جموں وکشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے۔انہوں نے پارٹی سے وابستہ ہر ایک فرد کو لوک سبھا انتخابات کیلئے آج سے ہی تیار شروع کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ صدرِ نیشنل کانفرنس نے پہلے ہی پارلیمانی انتخابات کو تشخص کی جنگ قرار دیاہے اور ہمیں اپنی ریاست کے تشخص کو بچانے کیلئے تن دہی سے کام کرناہوگا۔

تبصرے
Loading...