محبوبہ مفتی کی طرف سے میرواعظ کیخلاف این آ ئی سمن کی مخالفت محض فریب کاری: نیشنل کانفرنس

پی ڈی پی نے ہی بھاجپا کو راج بھون کا استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا

سرینگر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی طرف سے میرواعظ عمر فاروق کیخلاف NIAسمن کی مخالفت کو محض فریب کاری اور سیاسی موقعہ پرستی قرار دیتے ہوئے جموں وکشمیرنیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ موصوفہ کی مہربانیوں کا خمیازہ آج یہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔ پارٹی کے ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ محبوبہ مفتی آج NIAکارروائیوں کا رونا رو رہی ہیں جبکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ موصوفہ نے ہی ادارے کو یہاں کارروائی کرنے کا موقع فراہم کیا۔محبوبہ مفتی کی حکومت کے دوران ہی میر واعظ عمر فاروق کیخلاف 2017میں این آئی اے کا کیس درج کیا گیا اور شاہد اسلام سمیت دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن تب موصوفہ کو میرواعظ کے مذہبی رہنما کی حیثیت نظر نہیں آئی ،تب موصوفہ نے کسی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیااور نہ ہی ان کارروائیوں کی مخالفت کی۔ لیکن کرسی جاتے ہی محبوبہ مفتی نئی بولیاں بولنے لگی ہیں اور آج ہر وقت بھاجپا اور مرکز کی مخالفت کرتھی پھر رہیں ہیں جبکہ کرسی پھر بیٹھ کر موصوفہ بھاجپا اور مودی کی تعریفوں کے پُل باندھنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کے کچھ ساتھیوں کو NIAسے بچانے کیلئے دلی میں اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔ اگر محبوبہ مفتی چاہتی تو اُسی وقت دیگر افراد کیخلاف بھی NIAکی کارروائیوں پر بریک لگواتیں۔ ترجمانِ اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا اور انہیں اقتدار میں لاکر ریاست کو تباہی اور بربادی کی نذر کردیااور آج مگر مچھ کے آنسو بہا کر کچھ اور ہی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریاست خصوصاً وادی کی موجودہ بدترین صورتحال کیلئے محبوبہ مفتی براہ راست ذمہ دار ہے، مرکز آج جو کچھ یہاں کررہا ہے اُس کیلئے محبوبہ مفتی اور اُن کی جماعت نے راہ ہموار کرکے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی طرف سے حمایت واپس لینے کے وقت محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ ریاستی گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست اس لئے نہیں کی کیونکہ اُن کی جماعت عوام کے پاس جانے سے کترا رہی تھی۔ محبوبہ مفتی کے اسمبلی تحلیل نہ کروانے کے فیصلے سے ریاست 1996کے بعد سب سے زیادہ طویل مرکزی حکمرانی میں ہے ۔ محبوبہ مفتی کے اس فیصلے کی وجہ سے بھاجپا کو بھر پور انداز میں اپنی من مرضی سے راج بھون کا استعمال کرنے کا موقع فراہم ہوا اور موصوفہ کی مہربانی کی وجہ سے ہی آج راج بھون ایسے فیصلے لے رہاہے جس کا منڈیٹ اُسے حاصل نہیں۔

تبصرے
Loading...