لوک سبھا انتخابی نتائج ، وادی کشمیر کی تینوں نشستوں پر نیشنل کانفرنس کا راج

نئی دلی میں بننے والی نئی حکومت جموں و کشمیر کیساتھ انصاف کرے/ڈاکٹر فاروق

0 146

5سال جو کیا سو کیا، مودی اب جموں وکشمیر کے تئیں پالیسیاں تبدیل کریں/عمر عبداللہ
سرینگر/ لوک سبھا انتخاب کے نتائج میں پورے ملک میں بی جے پی کی برتری کے بیچ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے جمعرات کو وادی کشمیر کی تینوں لوک سبھا سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔اسی دوران جیت پر صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُن تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے نیشنل کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا رول نبھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نیشنل کانفرنس کے اُمیدواروں کو پارلیمنٹ کیلئے منتخب کرنے والوں خصوصاً نوجوانوں کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کی تینوں پارلیمانی نشستوں پر نیشنل کانفرنس نے قبضہ جما لیا ہے ۔ جمعرات کو ہوئی ووٹنگ کی گنتی کے دوران پارٹی کے صدر فاروق عبد اللہ سرینگر کی نشست سے،محمد اکبر لون بارہمولہ سیٹ سے جبکہ حسنین مسعودی اننت ناگ سیٹ سے کامیاب قرار دئے گئے ہیں ،خیال رہے کہ فاروق نے سرینگر کی سیٹ چوتھی بار جیت لی ہے۔سرینگر اور بڈگا م نشست کیلئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے ہزاروں ووٹنگ سے جیت درج کر لی جبکہ اننت ناگ نشست کیلئے جسٹس حسین مسعودی نے اپنے حریف پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور غلام احمد میر کو شکست دیکر جیت درج کر لی ۔ جبکہ اسی طرح سے بارہمولہ نشست کیلئے محمد اکبر لون نے پیپلز کانفرنس کے امید وار راعجاز علی کو نزدیکی ووٹوں سے شکست دی ۔۔الیکشن کمیشن کے مطابق لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے بی جے پی 292 نشستوں پر آگے ہے جبکہ مجموعی طور پر 340 نشستوں پر اس کا اتحاد آگے ہے۔ مرکزی حکومت بنانے کے لیے 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور اگر یہ رجحانات برقرار رہے تو بی جے پی کو حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت اپنے بل بوتے پر ہی مل سکتی ہے۔ ادھر جیت کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’جموں وکشمیر کے حوالے سے یہ پارلیمنٹ آسان نہیں ہے، اس میں ایسے مدعے ہونگے جو ہماری ریاست کیلئے بڑا چیلنج ہونگے، خصوصاً ہمیں دفعہ 370اور35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کا دفاع کرنے کیلئے بھرپور جدوجہد کرنی ہوگی۔اس کے علاوہ ملک میں مسلمانوں اور ہندئوں کو الگ کرنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں ان کا توڑ بھی کرنا ہوگا۔ یہ وطن سب کاہے، جتنا ہندو کا ہے اُتنا ہی مسلمان ، سکھ اور عیسائی کا بھی ہے۔ہندوستان کے آئین کی حفاظت کی جانی چاہئے جس آئین میں تمام طبقوں کے لوگوںکو برابر حقوق اور جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی میں بننے والی نئی حکومت کو جموں وکشمیر کیساتھ انصاف کرنا چاہئے اور پاکستان کیساتھ بات چیت کرنی چاہئے تاکہ یہاں کے لوگ اس دیرینہ مصیبت سے نجات حاصل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ آئے روز انکائونٹر ہورہے ہیں، آئے روز سرحدوں پر لوگ مررہے ہیں، معصوم اور بے گناہ لوگ جاں بحق ہورہے ہیں، پیلٹ گن سے تباہی مچ رہی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آکر جموںوکشمیر کے مسئلے کا کوئی پائیدار حل نکالنا چاہئے۔اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ملک میں بھاجپا کا متبادل تیار کرنے کی کوشش کی تھی، جسے ملک کے سامنے رکھا جائے، لیکن ملک نے اس کو قبول نہیں کیا، جہاں جہاں سے ہم اُمید کررہے تھے کہ اپوزیشن کو فائدہ ہوگا وہاں سے سیٹیں کم ہوئیں۔نیشنل کانفرنس نے 3سیٹوں پر اُمیدوار کھڑے تھے اور ہم نے اللہ کے فضل و کرم اور لوگوں کے اشتراک سے کامیابی حاصل کی۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’آج مودی صاحب کی کامیابی کا دن ہے اور یہ غلط ہوگا کہ اگر انہیں یہاں سے مبارکبادی کاپیغام نہ دیا جائے، ہم اُن کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ گذارش کرتے ہیں کہ گذشتہ5سال انہوں نے جو کچھ کیا وہ کیا لیکن اب انہیں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہئے، اُنہیں سب کو ساتھ لیکر چلناچاہئے۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ مرکز کی طرف سے ریاست کی بہتری کیلئے کام ہوگا، جو سختیاں یہاں کی جارہی ہیں اُن سختیوں کو ختم کیا جانا چاہئے، بند پڑی آر پار تجارت کو بحال کیا جانا چاہئے اور ایسے اقدامات اُٹھانے چاہئیں جس سے جموںوکشمیر کے عوام راحت کی سانس لے سکے۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے کو جو خطرات لاحق ہیں اُن کو ہمیں آسان نہیں لینا ہوگا، ہمارے پاس جتنی بھی طاقت ہے ہم اس طاقت سے ان دفعات کو بچانے کی بھر پور کوشش کریںگے۔ نیشنل کانفرنس نے اپنے اُمیدوار بھی خصوصی پوزیشن کے دفاع کو ملحوظ نظر رکھ کر ہی کھڑے کئے تھے۔( سی این آئی )

تبصرے
Loading...