لبریشن فرنٹ کا حراستی ہلاکت نیز دوسرے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

0 61

سرینگر/: لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی نے لال چوک میں منعقدہ ایک پرامن احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں لبریشن فرنٹ کے جملہ قائدین، اراکین کے ساتھ ساتھ زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ اس احتجاجی مظاہرے کا اعلان مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کیا تھا اور اس کا مقصد جوان سال استاد رضوان اسد پنڈت کے حراستی قتل اور دوسرے جابرانہ اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔اس احتجاجی مظاہرے میں شوکت احمد بخشی کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے قائدین شیخ عبدالرشید، محمد صدیق شاہ، پروفیسر جاوید، محمد حنیف، معراج الدین اور دوسرے لوگوں نے شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جبکہ فلک شگاف نعروں سے بھی فضا گونج رہی تھی۔اس موقع پر مظاہرین نے بڈشاہ چوک کی جانب مارچ کیا اور وہاں ایک احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے جس سے قائدین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے این آئی اے اور ایس او جی کی جانب سے شہید استاد رضوان اسد پنڈت کے حراستی قتل، کشمیر میں جاری گرفتاریوں کے سلسلے، لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک جو کورٹ بلوال جیل میں مقید ہیں کی اسیری کو طول بخشنے کے ساتھ ساتھ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے این آئی اے، ای ڈی اور فیما جیسی ایجنسیوں اور قوانین کے ذریعے کشمیریوں کو زچ کرنے اور کشمیریوں کی مزاحمت کو کچلنے کی کاوشوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس موقع پر پرامن مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ قائد شوکت احمد بخشی نے کہاکہ کشمیر میں معصوم انسانوں کا لہو بے دریغ بہانے کا سلسلہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے اور ابھی جب کہ ہم معصوم طالب علم رضوان اسد پنڈت کے حراستی قتل کا ماتم منا ہی رہے ہیں شمالی کشمیر میں ایک معصوم بچے عاطف میر اور کئی دوسرے انسانوں کی لاشیں ہمیں تھمادی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خود بھارتی میڈیا کے مطابق استاد رضوان اسد کو این آئی اے نے گرفتار کرکے اس سے ایس او جی کیمپ کارگو میں پوچھ تاچھ کی تھی۔ اس پر بدترین تشدد کیا گیا ،اسکے جسم کے اعضاء جلادئے گئے،اسکی جلد کو کئی مقامات پر کاٹ دیا گیاتھا اور اس کے پورے جسم پر رولر پھیرا گیا تھا اور پھر جب وہ یہ ٹارچر برداشت نہ کرتے ہوئے شہید ہوگیا تو اس پر فرار ہونے کی کوشش کا الزام بھی دھرا گیا ۔ فرنٹ قائد نے کہا کہ یہ نئے الزامات ہی دراصل اس جوان سال کی حراستی شہادت کا واضح اعلان ہیں جو پولیس بڑی بے شرمی کے ساتھ کرچکی ہے۔شوکت احمد بخشی نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر پی ایس اے کے نفاذ اور انہیں جموں کے کورٹ بلوال جیل میں مقید رکھنے نیز ان کے ایام اسیری کو طول بخشنے کی بھارتی کارروائی کو جموریت کشی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی قائد کی آواز کو دبانے کیلئے قید و بند کا سہارا لینا بہرصورت آمریت ہی کہلائے گا اور اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی پر ای ڈی کی جانب سے یک طرفہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے فیما قانون کے تحت جرمانے کی سزا سنانے کو مضحکہ خیز اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فرنٹ قائد نے کہاحقیقت سے کہ انکار مسلسل،ہٹ دھرمی اوردشمنی کی پالیسیوں نے ہمیں لاشوں اور مصائب و آلام کے سوا کچھ دیا ہے اور نا ہی دے سکتے ہیں اسلئے اپنی نئی نسل کو تباہی سے محفوظ رکھنے کیلئے ایسی پالیسیوں کو ترک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت حکمران کشمیر کو اپنی مقبوضہ نوآبادی اور کشمیریوں کو غلام تصور کرتے ہیں کہ جن کو نہ اپنی مرضی کے مطابق جینے،مرنے اور ترقی کا کوئی حق ہے اور نا ہی جمہوری اور پرامن طور پر اپنی بات سامنے رکھنے کا کوئی حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی خیالات پر مکمل پابندی اورعوامی تحریک کو فوج اور پولیسی جبر سے دبانے کے اس سلسلے نے کشمیر کو جہنم زار بنادیا ہے جہاں کوئی انسان اپنی جان و مال کو محفوظ و مامون نہیں سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو دبانے اور زیر کرنے کیلئے اب این آئی اے ،ای ڈی اور فیما نامی ایجنسیوں اور قوانین کا اطلاق کیا جارہا ہے لیکن ایسا کرنے والے حکمران اس بات کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ عوامی تحاریک اور انقلابات کو بھونڈے مظالم سے دبانا ممکن نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران چاہے جو کرلیں اور انکے مقامی گماشتے اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے جو مرضی کرلیں ‘ کشمیریوں کی ظلم و جبر کے خلاف پرامن مزاحمت و مقاومت حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی۔

تبصرے
Loading...