لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک 24مئی تک جوڈیشن ریمانڈ میں

ہسپتال میں داخل مزاحمتی لیڈر کی صحت میں معمولی سدھار آیا

0 87

سرینگر: علیل محبوس فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کو دلی کی ایک عدالت نے 24مئی تک جوڈیشل ریمانڈ میں رکھنے کی ہدایت دی ہے ۔تاہم ہسپتال میں داخل فرنٹ لیڈر کی صحت میں معمولی سدھار آیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق دلی کی ایک عدالت نے بدھ کو لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک کو مبینہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں24مئی تک جوڈیشل حراست میں دیدیا۔این آئی اے کی تحویل میں ملک کو 23اپریل تک ریمانڈ تھی جو گذشتہ روز ختم ہوچکی اور عدالت نے ملک کو جوڈیشل ریمانڈ میں رکھنے کی ہدات دی ہے جس کے تحت محمد یاسین ملک اب این آئی اے کی تحویل سے نکل کر جھیل میں رہیں گے ۔ تاہم فی الحال محمد یاسین ملک دلی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے جہاں ان کی صحت میں معمولی سدھار آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج راکیش سیال نے تہار جیل کی اس درخواست سے بھی سرکاری وکیل کی وضاحت طلب کی جس میں یاسین ملک کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش عدالت کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔مذکورہ عدالت نے ملک کو این آئی اے کی تحویل میں دیدیا تھا۔اس سے قبل ملک کو جموں کے کوٹ بلوال جیل، جہاں وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایام اسیری کاٹ رہا تھا، سے دلی لیجایا گیا تھا۔گذشتہ ہفتے ملک کے قریبی رشتہ داروں نے کہا تھا کہ اْنہوں نے جیل میں اپنی ”غیر قانونی حراست” کیخلاف بھوک ہڑتال شروع کی ہے جس کے دوران اْن کے صحت کی حالت خراب ہوگئی ہے۔اور انہیں نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جموں کشمیر ہائی کورٹ نے ملک کیخلاف سی بی آئی کے تین کیس کھولنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔مذکورہ کیسوں میںملک کو اغوا کاری اورقتل کے الزامات کا سامنا ہے۔مذکورہ کیسوں میں محمد یاسین ملک اور اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف ٹاڈا اور مقامی عدالتوں میں پہلے ہے کیس خارج ہوچکے ہیں ۔ یاد رہے کہ لبریشن فرنٹ کو گذشتہ ماہ مرکزی سرکار نے کالعدم تنظیم قرار دیا۔جس کے بعد محمد یاسین ملک کے دیگر ساتھیوں اور فرنٹ کے کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں جبکہ یاسین ملک پہلے ہی حراست میں تھے ۔

تبصرے
Loading...