فیس بک پر بے بنیاد خبریں اور پروپگنڈا جیسے پوسٹوں پر پابندی کا فیصلہ

سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی غلط خبروں سے ، انسانی جانوں کا زیاں ہونے کا احتمال ہوتا ہے ۔مارک الیٹ زکربرگ

0 41

سرینگر: فیس بُک نے ایسے مواد مشتہر کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے حالات خراب ہوجاتے ہیں اور اس نئے فیصلے سے غلط افواہیں پھیلانے پر اور بے بنیاد خبروں کی سماجی ویب سائٹ پر تسیل پر کسی حد تک روک لگاسکتی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق فیس بُک پر غلط اور بے بنیاد خبروں کی تشہیر پر روک لگانے کیلئے فیس بُک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسا مواد بلاکسی پیشگی اطلاع کے صارف کے فیس بُک صفحہ سے ہٹائے گی ۔ کشمیر ، بنگلہ دیش، مینامار،ویتام و دیگر جگہوں سے متعلق فیس بُک پر مواد جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے ، ملکی سلامتی کیلئے خطرہ اور انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنتا ہو فیس بُک سے ہٹائی گی ۔ اور اس ضمن میں اگلے چند ماہ میں کام شروع کیا جائے گا۔ سی این آئی کو اس ضمن میں ملی جانکاری کے مطابق سماجی ویب سائٹ پر غلط اور اشتعال انگیز مواد اپ لوڈ کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے فیس بُک کے موجد مارک الیٹ زکربرگ نے کہا کہ فیس بُک پر جھوٹا پروپگنڈ کرنے والے صارفین کے پوسٹوں پر پابندی لگائی جائے گی اور اس ضمن میں کام چل رہا ہے اور آئیندہ چند مہینوں میں اس پر عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔ فیس بک صارفین کو صحیح اور معیار مواد فراہم کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے تاہم اس حوالے سے لوگوں کو بھی کمپنی کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے ۔ سوشل میڈیا پر منفی پروپگنڈا اور اشتعال انگریز مواد کے مشتہر کرنے پر روک لگانے کے حوالے سے فیس بک نے پہل کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک صارف کے پیج سے ایسا مواد کسی پیش گی اطلاع کے ہٹائے گی ۔ میانمار، بنگلہ دیش، سری لنکا، فلپائن ، ویتام، شام ، ایتھوپا ، فلسطین ، کشمیر افغانستان کے ساتھ ساتھ بھارت کی شمالی مشرقی ریاستوں سے متعلق ایسا پروپگنڈ کو پیج سے ہٹایا جائے گا جس سے امن و امان کی صورتحال بگڑھ سکتی ہے یا انسانی جانوں کے زیاں اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کرے ایسے پوسٹوں کو پیج سے ہٹایا جائے گا۔ واضح رہے کہ وادی کشمیرمیں بھی سرکاری سطح پر ایسے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں جس سے سوشل میڈیا پر غلط پروپگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ فیس بُک کے موجد مارک زکر برگ نے 2004میں فیس بُک تیار کیا اور فروری 4سے اس کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک دلوں کی دھڑکن بن گئی اور اس کی شہرت میں اضافہ ہوتا گیا لیکن اس کا کچھ لوگوں نے غلط استعمال کرکے اپنے مفاد کیلئے اس کو چلایا اس صورتحال پر سنجیدگی ظاہر کرتے ہوئے فیس بک منتظمین نے اب ایسا قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ (سی این آئی)

تبصرے
Loading...