فوجی کانوائی کے دوران سکولی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے

سکولی بچے 10بجے کے بجائے 12بجے پہنچتے ہیں ، عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر

سرینگر: فوجی کانوائی کے دوران سکول بسوں کو چلنے کی اجازت نہ دینے کے نتیجے میں سکول بسوں میں موجود طلبہ اپنے سکولوں تک وقت پر نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ جن بچوں کو سکول میں 10بجے حاضر ہونا ہوتا ہے فوجی کانوائی کی وجہ سے وہ دن کے بارہ بجے سکول پہنچ جاتے ہیں جس کے نتیجے سکول بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ اس صورتحال کو تشویشناک قراردیتے ہوئے عوامی حلقوںنے کہا ہے کہ فوجی کانوائیوں کے دوران ایمبولینسوں اور سکول بسوںکو چلنے کی اجازت دی جائے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق 14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کانوائی پر فدائین حملے کے بعد فوج نے اعلان کیا تھا کہ فوجی کانوائی کے دوران کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ اس کی حمایت میں مرکزی وزارت داخلہ نے بھی کہا تھا کہ کشمیر میں فوجی کانوائی کے سفر کے دوران کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے فوجی کانوائی کے دوران مسافر گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور جب بھی کانوائی کی گاڑیاں سفر پر ہوتی ہے تو اُس دوران چھوٹی بڑی مسافر یا نجی گاڑیوں کو سڑکوں کے برلب کھڑا رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے جب تک نہ کانوائی ختم ہو۔ فوجی کانوائی کا قافلہ اس قدر بڑا ہوتا ہے کہ کانوائی گزرنے میں دو تین گھنٹے لگ جاتے ہیں اور اگر کسی جگہ ٹریفک جام ہوتا ہے تو پھر اس میں زیادہ وقت لگتا ہے ۔ فوجی قافلے کے سفر کے دوران دیگر گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایمبولنسوں کو بھی روک دیا جاتا ہے ۔سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وادی میں 11مارچ کو تعلیمی ادارے دوبارہ کھل جانے کے بعد سکول گاڑیوں کے ذریعے اکثر بچے سکول پہنچتے ہیں تاہم ان سکول گاڑیوں کو بھی کانوائے کے دوران چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں بچوں کو قیمتی وقت ضائع ہوجاتا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ جن بچوں کو صبح دس بجے سکول پہنچنا ہوتا ہے فوجی کانوائی اگر اس وقت ان کی راہ میں آتی ہے تو بچے دس بجے کے بجائے بارہ ایک بجے سکول پہنچتے ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوجاتا ہے ۔ اس صورتحال کو تشویشناک قراردیتے ہوئے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی کانوائی کے دوران ایمبولینسوں اور سکول گاڑیوں کو بھی چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ ایمبولینسوں میں موجود مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچایا جاسکے اور ان کی زندگی بچے سکیں دوسراسکولی بچوں کو وقت ضائع نہ ہو اور ان کے مستقبل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے ۔ واضح رہے کہ 14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں فدائین حملے میں 49سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد فوج نے اعلان کیا تھا کہ فوجی کانوائی کے دوران کسی بھی قسم کی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ (سی این آئی)

تبصرے
Loading...