فضائیہ حدود کی خلاف ورزی سے پہلے پاکستان کو ہزار بار سوچنا پڑے گا /بی ایس دھنووا

27فروری کو پاکستان کا کوئی بھی طیارہ کنٹرول لائن عبور نہ کر سکا

0 28

سرینگر: 27فروری کو پاکستانی فضائی طیاروں نے لائن آف کنٹرول عبور نہیں کی کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے سربرا ہ نے کہا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کی طرف آنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی فضائیہ نے دو اگست 2000 کو پی او کے میں تین سے چار کلو میٹر اندر جاکر ائیر اسٹرائیک کر کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق کرگل جنگ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر مدھیہ پردیش میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے سربرا ہ نے بی ایس دھنووا نے کہا کہ سال 2000میں کی گئی اس ائیر اسٹرائیک میں لیزر گائیڈیڈ بموں کا استعمال کیا گیا تھا۔ جس دوران پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ائیر اسٹرائیک کے دوران جنگجوئوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کردیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کرگل جنگ کے بعد پاکستانی سرحد کے اندر ائیراسٹرائیک کی گئی تھی۔ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی طرف سے جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتیہ فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنووا نے کہا کہ بھارت کے پاس جب رافیل آئیگا، تو ہماری فضائی دفاع کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائیگی۔ اس کے بعد پاکستان ایل او سی کے آس پاس آنے کی کوشش بھی نہیں کریگے۔ انہوں نے کہا کہ رافیل بھی ہمارے خیمے میں شامل ہوگا۔آئی اے ایف دھنووا نے کہا، ’’ ملک کئی سیکورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمیں الگ الگ علاقوں کے لئے ورٹیکل کیپیبلٹی کی ضرورت ہے۔ چینوک کو ہندوستان کی خصوصی ترقی کے لئے خریدہ گیا ہے۔‘‘پاکستان کے نام سخت پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان لائن آ کنٹرول پر خلاف ورزی کرکے بھارت کو جوابی کارروائی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا نے کیلئے بھارتیہ فضائیہ اس پار کی کسی بھی کوشش کا ناکام بنانے کیلئے چوکس ہے اور اس طرف ہونے والی کسی بھی کارورائی کو بھر پور جواب دینے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔( سی این آئی )

تبصرے
Loading...