غیر قانونی طور پر نصب کی گئی بینڈ سا ملوں کو چلانے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کا اہم رول

برقی رو فراہم کئے جانے کی وجہ سے قومی سرمایہ کا بڑی تیزی کے ساتھ ہورہا ہے صفایا

0 91

سرینگر:کشمیر وادی میں غیر قانونی طور پر نصب کی گئی بینڈ سا ملوں کوچلانے کیلئے محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے اہم رول ادا کیا جارہا ہے ۔میونسپل حدود کے بجائے دیہی علاقوں میں چلنے والی بینڈ سا ملوں کے باعث جنگلوں کو بے دردی کے ساتھ تہیہ تیغ کیا جارہا ہے ۔اگرچہ دیہی علاقوں میں محکمہ جنگلات نے بینڈسا ملوں کو چلانے کیلئے کوئی اجازت نہیں دی ہے تاہم محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے ایسے بینڈسا ملوں کو باضابطہ طور پربرقی رو فراہم کی جارہی ہے ۔اس کے نتیجے میں قومی سرمایہ کا بڑی تیزی کے ساتھ صفایا ہورہا ہے۔محکمہ جنگلات کے ایک اعلیٰ آفیسر کے مطابق صرف میونسپل حدود میں جزوی ملوں اور بینڈسا نصب کرنے کیلئے لائسنس اجرا کی گئی ہیں اور جنگلوں سے تین کلو میٹر کے حدود میں کسی بھی ایسے کارخانے کو نہ تو چلانے کی اجازت دیدی گئی ہے اور نہ ہی اس کی ذمہ داری محکمہ جنگلات پرعائد ہوسکتی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے جنگلوں کا صفایا کرنے میں اہم رول اداکیا جارہا ہے اور دیہی علاقوں میں جتنے بھی بینڈسا نصب کئے گئے ہیں انہیں محکمہ جنگلات کی جانب سے کوئی لائسنس اجرا نہیں کی گئی ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے رولنگ کے مطابق اے زون زمرے میں آنے والے علاقوں میں اس طرح کے کارخانے نصب کرنے پر مکمل پابندی ہے جبکہ جموں وکشمیر ہائیکورٹ نے بھی گرین بیلٹ اے زون کے تحت آنے والے علاقوں میں بینڈسا نصب کرنے پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کی ہے تاہم اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ وادی کے اطراف واکناف میں تقریباََ دو سے اڑھائی ہزار کے قریب بینڈسا نصب کی گئی ہیں جنہیں محکمہ جنگلات کی جانب سے کوئی لائسنس یا اجازت نہیں دیدی ہے بلکہ پی ڈی ڈی کی جانب سے ایسے بینڈسا ملوں کو باضابطہ طور پر برقی رو فراہم کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بھید،سفیدے کی لکڑی کے ساتھ ساتھ جنگلوں سے غیرقانونی طور پر کاٹی جانے والی عمارتی لکڑی کی بھی چیرپھاڑ کی جاتی ہے اور اسمگلر جنگلوں سے کاٹی گئی عمارتی لکڑی بینڈسا مالکان کو اونے پونے دام فروخت کیا کرتے ہیں ۔ستم ظریفی کا عالم ہے کہ پیڈی ڈی محکمہ ایک طرف عوام کو باقاعدگی کے ساتھ برقی روفراہم کرنے کے دعوے اور وعدے کر رہا ہے اور دوسری جانب غیر قانونی طور پر قائم کی گئی دو ہزار پانچ سو بینڈسا ملوں کوبرقی رو فراہم کرکے محکمہ پی ڈی ڈی کے ساتھ اگریمنٹ کرنے والے صارفین کے ساتھ کھلی دھوکہ بازی کر رہا ہے اور گذشتہ کئی برسوں سے اس معاملے کو مسلسل دبایا جارہا ہے۔( سی این آئی )

تبصرے
Loading...