غیر ریاستی بھکاریوں اور لولے لنگڑوں کی وادی آ مد،مختلف مقاما ت پرڈھیرہ

طبی ما ہرین کا بھکاریوں اور جسمانی طور ناخیز افراد سے دور رہنے کامشورہ

0 59

سرینگر: بیرون ریاستوں میں گرمی کی شدت بڑھ جانے کے ساتھ ہی وادی گلپوش میں غیر ریاستی بھکاریوں اور لولے لنگڑوں کی آمد بڑے پیمانے پر شروع ہوچکی ہے نتیجے کے طور پر یہ غیر ریاستی بھکاری اور لولے لنگڑے اسکولوں ، کالجوں ،بس اڑوں اور صحت افزا مقامات کے علاوہ پیٹرول پمپوں بھیک مانگتے نظر آ رہے ہیں ۔ اس دوران طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وہ بیرون ریاستوں سے یہاں آنے والے بھکاریوں اور جسمانی طور ناخیز افراد سے دور رہیں کیونکہ وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ کرنٹ نیوز سروس کے مطابق ٹنل پار اور بیرون ریاستوں میں گرمی کی شدت بڑھ جانے کے ساتھ اور وادی میں موسم میں بہتری کے ساتھ ہی بیرون ریاستوں سے سینکڑوں بھکاری اور مزدوروارد کشمیر ہوچکے ہیں اور اس صورتحال کا سدباب کرنے کے لئے ریاستی سرکار اور متعلقہ حکام پر اسرار طور خاموش اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان غیر ریاستی بھکاریوں اور مزدوروں کے ساتھ وادی میں بے روز گاری اور جرائم کے گراف میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے کیونکہ یہ غیر ریاستی باشندے یہاں عصمت دری ، لوٹ مار، اسمگلنگ اور منشیات کے مرتکب ہورہے ہیں اورگذشتہ کئی برسوں سے یہاں سینکڑوں غیر ریاستیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔سماج کے کئی ذی شعور اور صاحب فکر لوگوں نے کرنٹ نیوز سروس کو بتایا کہ ان غیر ریاستی مزدوروں اور بھکاریوں کی وارد کشمیر ہونے سے سماجی برائیوں کے ساتھ ساتھ مقامی مزدوروں اور کاریگروں کے روز گار پر کاری ضرب لگا ہے جسکی وجہ سے یہاں بے روز گاری میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ غیر ریاستی بھکاری، لولے لنگڑے اسکولوں ، کالجوں ،بس اڑوں اور صحت افزا مقامات پر ڈھیرا جمائی بیٹھے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کے علاوہ مہمان سیاح و سیلانی زبردست تنگ و طلب ہورہے ہیں اور اسطرح مہمان سیاح و سیلانی کی نظروں میں کشمیری کی عزت و وقار مٹی میں مل جاتا ہے۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ جموں سے سرینگر آنے والی گاڑیوں کے کرایہ میں تین گنا اضافہ کردیا گیا ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ وادی گلپوش آنے میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جموں سے سرینگر آنے والے غیر ریاستی باشندوں میں کاریگروں اور مزدوروں کے علاوہ بھکاریوں اور لولے لنگڑوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل رہتی ہے۔ جن کو حیرت انگیز طور کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے ادھر سی این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق کہ ہر شام سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں سرینگر پہنچ رہی ہیں جن میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو سردی سے بچنے کے لئے یا تجارتی سلسلے میں بیرون ریاستوں میں عارضی طور رہائش پزیرتھے۔ ذرائع کے مطابق بیرون ریاستوں سے آنے والے لوگوں میں بھکاری اور لولے لنگڑوں کی تعداد اسقدر بڑھ رہی ہے کہ اب سرینگر میں ایسے معذوروں کے لئے جگہ کم پڑتی جارہی ہے اور جو لوگ ایسے جسمانی طور ناخیز افراد کو یہاں لیکر آجاتے ہیں اور ان کو اب وادی کے دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بیرون ریاستوں سے لولے لنگڑوں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا سینکڑوں لوگوں کو کشمیر آمد سے پیدا ہونے والی صورتحال پر ممکنہ بیماریاں پھوٹ پڑنے یا پھیلنے کے بارے میں جب سی این ایس نے ایک معالج سے بات کی تو انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ بیرون ریاستوں سے یہاں آنے والے بھکاریوں اور جسمانی طور ناخیز افراد سے دور رہیں کیونکہ وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ مذکورہ معالج نے خبردار کیا کہ بیرون ریاستوں سے آنے والے سینکڑوں اور جسمانی طور ناخیز افراد و دوسرے لوگوں کے بارے میں ڈویژنل انتظامیہ کی خاموشی کسی بھی وقت خطرناک صورتحال کو جنم دی سکتی ہے۔ واضح رہے چھ سال قبل ان غیر ریاستی باشندوں کی روک پرکئی سیاسی جماعتوں اور مزدور یونینوں نے ایک منظم احتجاج کیا تھا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

تبصرے
Loading...