عید الفطرکی آمد ،سرینگر اوروادی کے دیگر قصبہ جات کے بازاروںمیں لوگوںکا بھاری رش

حسب روایت لاکھوں روپے کی خریداری ،بنکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر صارفین کے غیر معمولی بھیڑ

0 91

سرینگر: عید الفطر سے ایک روز قبل وادی کے اطراف و اکناف میںبازاروں میں پھر گہما گہمی دیکھنے کو ملی جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے بیکری کے ساتھ ساتھ ملبوسات اور دیگر سازوسامان کی خریدوفروخت کی جبکہ اس دوران شہر و دیہات میں قائم مختلف اے ٹی ایم مشینوں سے لاکھوں روپے کی رقم نکالی گئی ۔ شہر و دیہات کے بازاروں میں لوگوں کا اژدھام امڈ آنے کی وجہ سے کسی بھی بازار میں تل دھرنے کی جگہ موجود نہیں تھی۔سی این آئی کے مطابق وادی کے طول و عرض میں عید الفطر کی آمد پربازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے آج بھی ملبوسات کے ساتھ ساتھ بیکری اور دیگر اشیائے ضروریہ کی خریداری کی۔ بھاری عوامی رش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے لالچوک، گھنٹہ گھر، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، مہاراجہ بازار، امیراکدل، کوکربازار، پائین شہر، وسطی شہر، بٹہ مالو، بمنہ، اور دیگر علاقوں کے بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی کیونکہ سڑکوں پر جگہ جگہ پر چھاپڑی فروشوںنے چھاپڑی لگائی تھی جن پر ملبوسات کے ساتھ ساتھ کھلونے کی چیزیں سجائی گئی تھی۔ شہر سرینگر سمیت وادی کے مختلف قصبہ جات میں آج غیر معمولی رش دیکھنے کو ملا اور لالچوک میں لوگوں کا اژدھام اُمڈ آیا جو کہ صبح سے ہی خریداری کرنے میں مصروف رہے ۔تاہم ٹریفک کا حلیہ بگڑنے کے ساتھ ساتھ منافع خوری عروج پر ہے اور محکمہ امور صارفین کے چیکنگ سکارڈ وں کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ عید کے پیش نظر وادی کے مختلف بازاروں میں لوگوں کی آمد شروع ہو گئی اور اس سلسلے میں لالچوک میں دن بھر لوگ خریداری میں مصروف دکھائی دئے ۔ آج صبح سے ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد لالچوک میں واقع بیکریوں کی مختلف دکانوں پر قطاروں میں دیکھے گئے اور وہ بیکری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ چنانچہ دن گزرنے کیساتھ ساتھ شہر سرینگر کے بازاروں میں رش بڑھتا گیااور دوپہر کو لالچوک میں لوگوں کا اژدھام امڈ پڑا جس کے نتیجے میں تل دھرنے کی بھی جگہ دیکھنے کو نہیں مل رہی تھی۔ فٹ پاتھوں پرموجود مختلف قسم کی اشیاء خریدنے میں بھی لوگ مصروف تھے اور اس کے علاوہ ملبوسات کی دکانوں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا ۔شہر سرینگر کے تمام مصروف ترین با زاروں میں عید کے سلسلے میںبھاری پیمانے پر لو گوں کی طرف سے خریداری جا ری ہے اور شہر کے انتہائی مصروف ترین علاقوں جن میں بٹہ ما لو،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ،گونی کھن مارکیٹ،مہاراجہ با زار،ریگل چوک،ڈلگیٹ،صورہ شامل ہیںمین بھاری رش دیکھنے کو ملا اور لوگ ہرطرح کی اشیا خریدنے کیلئے زبردست تگ و دو میں مصروف ہیں۔اسی طرح قصابوں کے دکانوں پربھی آج لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی اور وہ لوگ گوشت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو گذشتہ روزبھاری رش کی وجہ سے گوشت اور مرغ وغیرہ کی خریداری نہیں کر سکے۔ اس دوران بھاری رش کی وجہ سے ٹریفک کا حلیہ بالکل ہی بگڑ گیا اور لالچوک سے جہانگیر چوک تک پیدل سفر کرنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ شہر کے انتہائی مصروف ترین بازاروںپولو ویو، ریگل چوک، ریذیڈنسی روڈ، امیرا کدل، گھنٹہ گھر،کوکر بازار، مائسمہ،گائو کدل، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،گونی کھن، مہاراجہ بازار،جہانگیر چوک،بٹہ مالو کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میںبھی بھاری رش دیکھنے کو ملا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد اشیائے خوردنی کی خریداری میں مصروف تھے۔ ادھر آج صبح سے ہی لالچوک اور اس کے گرد ونواح میں جموں وکشمیر بینک کے ساتھ ساتھ دیگر بینک اداروں کے اے ٹی ایموں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا اور لوگ قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔اے ٹی ایم سے رقومات نکالنے کے بعد لوگ بازاروں کا رخ اختیار کرتے تھے جہاں سے وہ اپنے بچوں اور عزیزوں کیلئے ملبوسات اور تحفے کی خریداری کر رہے تھے۔ ادھر وادی کے دیگر اضلاع جن میںکپوارہ ، بارہمولہ ، شوپیان ، بانڈی پورہ ، پلوامہ ،ترال ،سوپور اورکپوارہ کے بازاروں میں بھی لوگوں کارش دیکھنے کو ملا جہاں لوگ جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی ،اشیائے ضروریہ اور خوردنوشی کے دیگر چیزوں کی خریداری میں مصروف تھے۔ بھاری رش کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے جس کی وجہ سے لوگوں کو چلنے پھرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تبصرے
Loading...