عمران خان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑیں ، بھارت مکمل تعاون دینے کیلئے تیار / راجنا تھ سنگھ

پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تاہم دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیںچلیں گے

0 93

سرینگر: مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کے تئیں اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے باالکل تیار ہے تاہم پاکستان کو اس کیلئے پہلے اپنے ملک کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے والوں کا قافیہ حیات تنگ کرنا چاہئے اور تخریب کاروں کے خلاف حتمی کارروائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیزی لائے تاکہ مذاکرات کیلئے ماحول ساز گار بنایا جا سکے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطاق معروف انگزیزی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو اپنے ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے تیا رہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بھی پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور خطے میں قیام امن کیلئے کوشاں ہے تاہم پاکستان کو چاہئے کہ وہ پہلے تخریب کاروں کے خلاف کارروائی کرے اور بھارت کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بہتر رشتے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے دو طرفہ بات چیت کے لئے ایک شرط بھی رکھی ہے۔۔راجناتھ سنگھ نے کہا، ‘ہم پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم پڑوسی ملک سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایک چیز بالکل صاف ہے۔ بات چیت اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔بات چیت پھر سے شروع ہو سکے، اس کیلئے پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟ اس سوال پر وزیر داخلہ نے کہا، ‘پاکستان کو سب سے پہلے تو اپنی زمین پر چل رہے سبھی دہشت گردانہ کیمپوں کو تباہ کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنانا ہو گا کہ آگے وہ دہشت گردی کے لئے نہ تو اپنی زمین کا استعمال کرنے دے گا اور نہ ہی دہشت گردوں کے لئے پناہ گاہ بنے گا۔ اگر پاکستان ایسا کر سکتا ہے تو ہم بات کرنے کے لئے تیار ہیں‘‘۔وہیں، ائیر اسٹرائک کو لے کر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ ائیر اسٹرائک کو الیکشن سے جوڑ کر بالکل نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ یہ قومی فخر کا موضوع ہے نہ کہ کوئی سیاسی اسٹنٹ۔ اس لئے اس پر سیاست نہ کی جائے‘‘۔

تبصرے
Loading...